تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 117
علیحدہ بات ہے کہ مدارج کے اختلاف کی وجہ سے ایک انسان کی قبض کی حالت دوسرے انسان کی قبض کی حالت سے جدا گانہ ہو یا ایک انسان کی بسط کی حالت دوسرے انسان کی بسط کی حالت سے مختلف ہو لیکن بہرحال قبض اور بسط کی گھڑیاں ہر انسان پر آتی ہیں۔ایک وقت وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے دوسرے وقت وہ اپنے بیوی بچوں سے کھیل رہا ہوتا ہے تیسرے وقت وہ پاخانہ میںبیٹھا ہوا ہوتا ہے۔یہ علیحدہ علیحدہ حالتیں ہیں جن میں سے ہر انسان گزرتا ہے۔ان میں سے نماز اور روزہ بسط کی حالتیں ہیں اور بیوی بچوں سے کھیلنا یا پاخانہ میںجانا یا دنیا کے کسی اور کام میں مشغول ہو جانا یہ قبض کی حالتیں ہیں۔بہت لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں کہ وہ عبادت گزار بھی ہوتے ہیں، روزہ دار بھی ہوتے ہیں، حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوتے ہیں،ذکر الٰہی بھی کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیںمگر جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہی پڑھتے ہیں، جب حج کر تے ہیں تو حج ہی کرتے ہیں، جب زکوٰۃ دیتے ہیں تو زکوٰۃ ہی دیتے ہیں مگر جب وہ روٹی کھاتے ہیں اس وقت وہ صرف روٹی ہی کھا رہے ہوتے ہیں، جب وہ کپڑے پہنتے ہیں اس وقت وہ صرف کپڑے ہی پہن رہے ہوتے ہیں، جب وہ بیوی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ صرف بیوی سے ہی باتیں کر رہے ہوتے ہیں، جب وہ بچوں سے تلعّب کرتے ہیں اس وقت بچوں سے ہی تلعّب کر رہے ہوتے ہیں۔ان کی دنیا دنیا ہوتی ہے اور ان کا دین دین ہوتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیری تو دنیا ہی نرالی ہے۔تیری قبض کی حالت بھی خدا کے لئے ہوتی ہے اور تیری بسط کی حالت بھی خداکے لئے ہوتی ہے۔جب تو بیوی سے ہنس رہا ہوتا ہے اس وقت تو بیوی سے نہیں ہنستا بلکہ ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے کیونکہ تو کہتا ہے میںاپنی بیوی سے اس لئے ہنس رہا ہوں کہ میرا خدا کہتا ہے میںاپنی بیوی سے اس رنگ میںپیش آئوں۔جب تو کھانا کھا رہا ہوتا ہے اس وقت تو صرف کھانا نہیں کھاتا بلکہ بسم اللہ سے شروع کرتا اور الحمد للہ پر ختم کرتا ہے اور درمیان میں سبحان اللہ سبحان اللہ کہتارہتا ہے۔جب تو پانی پیتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ تو دنیا دار لوگوں کی طرح صرف پانی پئے بلکہ تو کہتا ہے میںیہ پانی اس لئے پی رہا ہوں کہ میرے رب نے یہ چیز میری طرف بھیجی ہے۔بارش آتی ہے تو لوگ اس سے کیسا لطف اٹھاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کیا کیفیت تھی ایک دفعہ بادل آیا آسمان سے ہلکی ہلکی بوندیں برسیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے کمرہ سے باہر تشریف لائے زبان نکالی اس پر بارش کا ایک قطرہ لیا اور فرمایا میرے رب کی طرف سے یہ تازہ نعمت آئی ہے۔(صحیح مسلم کتاب صلاۃ الاستسقاء باب الدعا فی الاستسقاء) آپ نے بھی لوگوں کو یہی نصیحت کی کہ میںتمہیںیہ نہیں کہتا تم اپنی بیویوں سے حظ نہ اٹھائو، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ کھائو نہیں، میں تمہیںیہ نہیں