تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 118

کہتا کہ تم پہنونہیں۔میںتمہیںیہ کہتا ہوں کہ تم جو کچھ کرو احتساباً کرو۔اس نیت اور ارادہ کے ماتحت کرو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا تمہیںحاصل ہو جائے۔اگر تم اپنے تمام کاموں میں اس نیت کو ہمیشہ مد نظر رکھو گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول تمہارا اصل مقصد ہو گا تو میں تمہیں کہتا ہوں اس کے بعد اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں احتساباً ایک لقمہ بھی ڈالتے ہو تو فَھُوَ صَدَقَۃٌ وہ بھی ایک صدقہ ہو گا (صحیح بخاری کتاب الایمان باب ماجاء انَّ الاعمال بالنیۃ والحسبۃ)۔اب دیکھو وہ شخص لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اسے صدقہ قرار دیتے ہیں حالانکہ جس سے انسان کو محبت ہوتی ہے اسے بہر حال وہ کھلاتا ہے وہ یہ تو پسند کر سکتا ہے کہ میںخود بھوکا رہوں مگر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ جس سے مجھے محبت ہے اسے بھوک کی تکلیف ہو۔مگر باوجود اس کے کہ وہ اپنی بیوی کو کھلائے گا خدا تعالیٰ کے حضور یہ نہیں لکھا جائے گا کہ اس نے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالا بلکہ خدا تعالیٰ کے حضور یہ لکھا جائے گا کہ اس نے ہماری رضا کی خاطر صدقہ کیا۔اسی طرح ملازموں سے معاملہ ہے، ہمسایوں سے معاملہ ہے، دوستوں سے معاملہ ہے۔جب انسان ان تمام معاملات میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے وہ یہ سب کام کرتا ہے تو بظاہر یہ دنیوی نظر آنے والے کام بھی اس کے لئے دین بن جاتے ہیںاور اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے یہ کام ایسے ہی سمجھے جاتے ہیںجیسے وہ عبادت میں اپنا وقت گزار رہا ہو۔پس فرمایا وَ الضُّحٰى۔وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیری بسط اور قبض کی حالتیں دونوں ہمارے لئے ہیں تو بظاہر اپنی بیوی سے ہنس رہا ہوگا مگر دل میں ہمارے ساتھ پیار کر رہا ہو گا۔تو بظاہر اپنے بچوں سے پیار کر رہا ہو گا مگر دل میں ہمارے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہو گا۔تو بظاہر ہمسایوں کے ساتھ دلجوئی کی باتیں کر رہا ہو گا مگر اصل میں تیری باتیں ہمارے ساتھ ہو رہی ہوں گی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ توان کے پاس بیٹھا ہے حالانکہ تو ان کے پاس نہیں بلکہ ہمارے پاس بیٹھا ہوتا ہے۔جب تیر اہر فعل ہمارے لئے ہے، جب تیری ہر حرکت اورہر سکون ہمارے لئے ہے اور جب تو دین اور دنیا دونوں راہوں سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم لَیْل اور نَـھَار میںتجھے چھوڑ دیں؟ جب ہم نہ تیرے کھانے پر ناراض ہیں، نہ پینے پر ناراض ہیں، نہ معاشرت پر ناراض ہیں، نہ ہمسایوں سے تعلقات پر ناراض ہیں، نہ کسی اور کام پر ناراض ہیں، تو ہم تجھے چھوڑ کس طرح سکتے ہیں؟ یہ تو عبادتیں ہیں جو تو ہماری خاطر بجا لا رہا ہے ان عبادتوں پر ہم نے خفا کیا ہونا ہے ہم تو خوش ہی ہوں گے کہ تو نے ہماری خاطر دنیا کو بھی دین بنا لیا۔غرض چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ قبض و بسط کی حالتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اچھی ہوں گی یعنی جب آپؐعبادت میں مشغول ہوں گے تو ہوں گے ہی۔جب آپ دنیوی کام کریں گے جو بمنزلہ لَیْل ہوتے