تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 116

متعلق ہے اور وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔میں آئندہ زندگی کے متعلق دعویٰ کر دیا اور فرمایا کہ میرے دن تمہارے سامنے ہیں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں دن تمہارے سامنے گذرے گا۔اسی طرح میری راتیںبھی تمہارے سامنے ہوں گی اور ایک کے بعد دوسری رات گزرتی چلی جائے گی لیکن یاد رکھو میری زندگی کا ہردن جو گزرے گا وہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ مَا وَدَّعَنِیْ رَبِّیْ وَمَا قَلَانِیْ۔اسی طرح ہر رات جو مجھ پر گزرے گی وہ ثبوت ہو گی اس بات کا کہ مَاوَدَّعَنِیْ وَمَا قَلَانِیْ۔غرض خدا تعالیٰ اس آیت میںمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آپ کی صداقت کی ایک نئی دلیل سکھاتا ہے اور فرماتا ہے میںیہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ تیرا ہر دن میری رضامندی میںگزرے گا اور تیری ہر رات میری رضامندی میں گذرے گی۔تیری پہلی زندگی کے متعلق میں چیلنج کر چکا ہوں اب یہ دوسرا چیلنج آئندہ زندگی کے متعلق ہے۔پچھلی زندگی کے متعلق تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے اس وقت سوچا نہیںتھا اگر غور کرتے تو ممکن تھا کہ کوئی نقص نظر آجاتا۔فرماتا ہے اگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس زندگی کے متعلق تمہارا یہ عذر ہے تو اب دوسری زندگی پر کوئی اعتراض کر لینا اور دیکھنا کہ اس کی زندگی کی ایک ایک ساعت، ایک ایک رات اور ایک ایک دن اپنے فائدہ اور اپنے آرام کے لئے خرچ ہوتا ہے یا بنی نوع انسا ن کے فائدہ اور آرام کے لئے خرچ ہوتا ہے۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے چوتھے معنے چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ قبض و بسط کی دونوں حالتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اچھی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ قابض بھی ہے اور باسط بھی، اور اس کے اپنے بندوں سے یہ دونوں سلوک ہوتے ہیں۔جس طرح دنیوی معاملات میں کوئی آرام کی ساعت ہوتی ہے اور کوئی تکلیف کی۔اسی طرح روحانی عالم میں کبھی کوئی ساعت ایسی آتی ہے جس میں انسان بہت زیادہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھکا ہوا ہوتا ہے اور کبھی اس پر قبض کی ساعت آجاتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آکر رو پڑے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میںتو منافق ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میںتو تم کو مومن سمجھتا ہوں وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! مومن نہیں میںتو منافق ہوں جب میں آپ کی مجلس میں بیٹھا ہوا ہوتا ہوں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف جنت ہے اور ایک طرف دوزخ۔جو بھی خیال میرے دل میں گزرتا ہے یا جو بھی عمل میں کرتا ہوں جنت اور دوزخ کو دیکھ کر کرتا ہوں۔مگر جب گھر جاتا ہوں تو یہ حالت نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو عین ایمان ہے اگر خدا تعالیٰ ہر وقت ایک جیسی حالت رکھے تو تم مر نہ جائو۔تو قبض و بسط کی حالت ہر انسان پر آتی ہے چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔یہ