تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 115

پھر دیکھو وہ ضُـحٰی کا ہی وقت تھا جب آپ مکہ میںداخل ہوئے اور آپ نے فرمایا اے عتبہ، شیبہ اور ولید کی اولادو! اور اے عتبہ، شیبہ اور ولید کے چچو، بھائیواور بھانجو! تم نے مجھے انتہائی بے کسی اور بے بسی کی حالت میںمکہ سے نکال دیا تھا اب تم میرے قابو میں ہو بتائو میں تم سے کیا سلوک کروں؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو آپ کی شان کے شایاں ہو اور وہی سلوک چاہتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے لَا تَثْـرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اِذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ۔(السیرۃ الـحلبیۃ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔جائو میں تمہیںکچھ نہیںکہتا۔تم آزاد ہو۔یہ دوسری ضُـحٰی تھی جو آپ پر آئی مگر اس ضُـحٰی نے بھی بتا دیا کہ کبر اور خودپسندی کبھی آپؐکے قریب بھی نہیں آئی تھی۔قومیںآئیں۔وفود آئے اور ہر طرف سے آکر انہوں نے آپ کی اطاعت کو قبول کیا مگر کبھی بھی یہ بات ظاہر نہیںہوتی کہ آپ نے ان لوگوں میںکبھی اپنی شان کا کوئی خاص اظہار کیا ہو۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے تیسرے معنے تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔کچھ لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیںجن پر دن چڑھتے ہیں تو وہ اپنے دنوں کو کھیل میں، تماشا میں، جوئے میں، شراب میںاور اسی قسم کی اور لغویات میںختم کر دیتے ہیں اور جب رات آتی ہے تو اس کو ناچ گانے اور سونے میںختم کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مگر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے مقابل پر تیر ادن بھی اس قسم کا ہو گا اور تیری راتیں بھی اس قسم کی ہوں گی کہ ہر دیکھنے والے کے سامنے تیرے ساتھی ان دنوں اور ان راتوں کو پیش کر سکیں گے اور اسے کہہ سکیںگے کہ بتائو کیا تمہارے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دنوں کی طرح ہیں اور کیا اس حالت میں دن گزارنے والے کو کبھی خدا تعالیٰ چھوڑ سکتا ہے یا اس سے ناراض ہو سکتا ہے؟ اسی طرح تیری راتیںایسی گذریں گی کہ تم ہر شخص کے سامنے اپنی ان راتوں کو پیش کر کے کہہ سکو گے کہ میری راتوں کو دیکھو اور بتائو کہ کیا ایسی راتوں والے کو خدا تعالیٰ چھوڑ سکتا ہے؟ غرض فرمایا وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم تیرے دنوں کو ایسا کر دیں گے اور تیری راتوں کو بھی ایسا کر دیں گے کہ تیر ادن بھی اس بات کی شہادت دے گا کہ تجھے خدا نے نہیںچھوڑا اور تیری رات بھی اس بات کی شہادت دے گی کہ تیرا خدا تجھ سے ناراض نہیں ہے۔یہ وہی دعویٰ ہے جو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس:۱۷) میںکیا گیا ہے کہ میںتم میںایک لمبی عمر گذار چکا ہوں کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ میں نے اس عرصہ میںکسی ایک بدی کا بھی ارتکاب کیا ہو۔اگر تم سب کے سب مل جائو تب بھی میری چالیس سالہ ابتدائی زندگی پر کوئی داغ ثابت نہیںکر سکتے۔مگر یہ دعویٰ تو گزری ہوئی عمر کے