تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 111
چھوڑ دیتے اور زیادہ سے زیادہ اسے یہی کہتے کہ تو اس کے ساتھ کیوں آگیا تھا کیونکہ ابو بکر ؓ کی مکہ والے بہت عزت کیا کرتے تھے وہ تو گھبرا جاتا ہے مگر جس پر آفت آئی ہوئی ہے، جس کے ساتھ اس مصیبت کابراہ راست تعلق ہے، وہ نہایت اطمینان کے ساتھ کہتا ہے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔اس تاریک گھڑی میں جب آپ نے کہا ہوگا کہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا تو جتنا آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا پہلے تعلق ہو گا وہ اور بھی بڑھ گیا ہو گا، وہ اور بھی سمٹ کر آپ کے قریب آگیا ہو گا اور جتنا خدا تعالیٰ آپ سے پہلے خوش تھا وہ اس سے بھی زیادہ خوش ہو گیا ہو گا۔پھر ایک تاریک گھڑی وہ تھی جبکہ اُحد میں آپ زخمی ہوئے اور اس قسم کے واقعات جمع ہو گئے کہ اسلامی لشکر کی فتح شکست کی صورت میں تبدیل ہو گئی۔ا س جنگ میں ایک درہ ایسا تھا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض آدمی چن کر کھڑے کئے تھے اور انہیں حکم دیا تھا کہ جنگ کی خواہ کوئی حالت ہو تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا۔( صحیح بـخاری کتاب المغازی باب غزوۃ اُحد) جب کفار کا لشکر منتشر ہوگیا تو انہوں نے غلطی سے اجتہاد کیا کہ اب یہاں ٹھہرنے کا کیا فائدہ ہے ہم بھی چلیں اور لڑائی میں کچھ حصہ لیں۔ان کے سردار نے انہیں کہا بھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ہم یہ درہ چھوڑ کر نہ جائیں مگر انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تو نہ تھا کہ فتح ہو جائے تب بھی یہیں کھڑے رہو۔آپ کے ارشاد کا تو یہ مطلب تھا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے اس درہ کو نہ چھوڑنا۔اب چونکہ فتح ہو چکی ہے دشمن بھاگ رہا ہے ہمیں بھی تو کچھ ثواب جہاد کا حاصل کرنا چاہیے۔چنانچہ وہ درہ خالی ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید جو اس وقت تک ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے نوجوان تھے اور ان کی نگاہ بہت تیز تھی وہ جب اپنے لشکر سمیت بھاگے جارہے تھے انہوں نے اتفاقاً پیچھے کی طرف نظر ڈالی تو درہ کو خالی پایا یہ دیکھتے ہی وہ واپس لوٹے اور مسلمانوں کی پشت پر حملہ کر دیا۔مسلمانوں کے لئے یہ حملہ چونکہ بالکل غیر متوقع تھا اس لئے ان پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گئی اور بوجہ بکھرے ہوئے ہونے کے دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے۔میدان پر کفار نے قبضہ کر لیا اور اکثر صحابہ سراسیمگی اور اضطراب کی حالت میں مدینہ کی طرف بھاگ پڑے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف بارہ صحابہ ؓ رہ گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ بارہ بھی نہیں صرف تین آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد رہ گئے اور کفار نے خاص طورپر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیر اندازی شروع کر دی لیکن باوجود ان نازک حالات کے آپ برابر دشمن کے مقابلہ میںکھڑے رہے اور اپنے مقام سے نہیں ہلے۔آخر دشمن نے یک دم ریلہ کر دیا اور وہ چند آدمی بھی دھکیلے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔آپ پر بعض اور صحابہ ؓ جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے شہید ہو کر گر گئے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھوڑی دیر کے لئے صحابہ ؓ کی نگاہوں سے