تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 107

یہ خدا تعالیٰ ہی کی معیت تھی کہ جب آپ غار ثور میںپہنچے تو باوجود اس کے کہ کفار کے کھوجی نے یہ کہہ دیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو یہاںہیںاور یا پھر آسمان پر چلے گئے ہیں ان کو یہ جرأت تک نہ ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر اس غار کے اندر جھانک سکیںوہ اپنے کھوجی پر مضحکہ اڑانے لگے کہ آج یہ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے کیا اس غار میں بھی کوئی چھپ سکتا ہے یا کوئی شخص آسمان پر بھی جا سکتا ہے کہ کہتا ہے کہ اگر وہ یہاں نہیںتو آسمان پر چلے گئے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی معیت کا ایسا کھلا اور واضح ثبوت ہے کہ دشمن سے دشمن انسان بھی اس کو سن کر انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔دوسری چیز فتح مکہ ہے اس کے لئے مَا قَلٰى کا لفظ خد اتعالیٰ نے استعمال کیا ہے۔مکہ والوں کا یہ خیال تھا کہ جو شخص مکہ پر حملہ کرے گا خد اکا غضب اس پر نازل ہو گا۔وہ ابرہہ کے حملہ کو دیکھ چکے تھے کہ کس طرح وہ اپنے لائو لشکر سمیت حملہ آور ہوا اور پھر کس طرح خدا تعالیٰ نے اسے اپنے غضب کا نشانہ بنادیا۔وہ سمجھتے تھے کہ مکہ پر حملہ کرنے والا چونکہ خدا تعالیٰ کی نارضا مندی کا مورد بنتا ہے اس لئے وہ تباہ ہو جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرے معاملہ میںایسا نہیں ہو گا بلکہ ضُـحٰی کا وقت اس بات کی شہادت دے گا کہ تیرا خدا تجھ سے ناراض نہیں اگر وہ ناراض ہوتا تو تجھ پر عذاب کیوں نازل نہ کرتا۔تجھ پر اس کا عذاب نازل نہ کرنا بلکہ تیری تائید اور نصرت کرنا اور تیرے راستہ سے ہر قسم کی روکوںکو دور کرنا اور تجھے اپنے لشکر سمیت فتح و کامرانی کا جھنڈا اڑاتے ہوئے مکہ میںداخل ہونے کا موقع دینا بتا رہا ہے کہ الٰہی منشاء یہی تھا کہ تو آئے اور اس بلد الحرام کو فتح کر کے اس میںداخل ہو جائے۔پس وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى میں بیان شدہ واقعہ کے ظہور نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیںچھوڑا اور وَالضُّحٰى میںبیان شدہ واقعہ نے بتا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل سے خدا تعالیٰ ناراض نہیں خواہ وہ صدیوں کے فیصلہ کے خلاف ہی کیوںنہ ہو۔ابراہیمؑ کے وقت سے خدا تعالیٰ کی یہ سنت چلی آرہی تھی کہ مکہ پر حملہ کرنا جائز نہیں جو شخص مکہ پر حملہ کرے گا وہ تباہ ہو جائے گا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو فتح کرنے کے لئے جا تے ہیں رات کو نہیں بلکہ دن دہاڑے مکہ میں داخل ہوتے ہیں۔دنیا بھی دیکھ رہی ہے خدا بھی دیکھ رہا ہے خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی دیکھ رہے ہیں مگر آپ پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا۔آپ کے لشکر پر کوئی تباہی نہیںآتی بلکہ اگر کچھ ہوتا ہے تو یہ کہ مکہ والوں کی گردنیں پکڑ کر خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیتا ہے کہ ان سے جو چاہو سلوک کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مکہ میںداخلہ عین خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق تھا ورنہ ۲۵ سو سال سے جو سلوک اللہ تعالیٰ مکہ پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کرتا چلا آیا تھا وہ آپ کے ساتھ کیوں نہ کرتا۔پس اللہ تعالیٰ