تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 103
الہامات نازل ہو جائیں تو ان کے شکریہ کے طورپر اور بھی ان کاموں کی طرف توجہ کرنا۔ترتیب پہلی سورتوں اور اس سورۃ کا مضمون اس لحاظ سے ایک ہی ہے کہ ان میں مکہ والوں کی اسی قسم کی بدیوں کا ذکر تھا جو یتامیٰ اور مساکین کی نسبت ان سے سر زد ہوتی تھیں۔اور اس میں بھی یتامیٰ اور مساکین کا ہی ذکر ہے اور اموال کی حفاظت اور ان کو صحیح طورپر خرچ کرنے کی نصیحت ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ سورۃ الضحیٰ میںصرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذریعہ آپ کے اتباع کو ایسا کرنے کی نصیحت کی گئی ہے اور پہلی سورتوں میں یہ مقابلہ تھا کہ دوسرے ایسا نہیں کرتے لیکن مسلمان ایسا کرتے ہیں۔سورۃ ضحیٰ کا تعلق پہلی سورۃ سے اس سورۃ کا دوسرا تعلق پہلی سورتوں سے یہ ہے کہ پہلی سورتوں میںیہ ذکر تھا کہ بندہ خدا تعالیٰ سے کیا سلوک کرتا ہے اور یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ بندے سے کیا سلوک کرتا ہے مثلاً پہلی سورۃ میںزیادہ زور اس بات پر تھا کہ بندہ خدا تعالیٰ کے لئے صدقہ و خیرات کرتا ہے۔جیسے فرمایا تھا وَسَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى۔الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى۔وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى۔اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى۔وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى۔گویا وہا ں نیک اور متقی بندے کے عمل کا ذکر تھا کہ وہ یوں کرتا ہے لیکن یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نیک اور متقی بندے یعنی نفسِ کامل سے کیسا سلوک کرتا ہے۔گویا پہلی سورتوں کے مضامین بالخصوص سورۃ الیل کے مضمون کا یہ تتمہ ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار حم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)۔وَ الضُّحٰىۙ۰۰۲ وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰىۙ۰۰۳ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ (مجھے) قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو جائے۔اور رات کی جب وہ قائم ہوجائے۔کہ نہ تیرے رب نے تجھے ترک کیا ہے۔وَ مَا قَلٰىؕ۰۰۴ اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔حلّ لُغات۔ضُـحٰی ضُـحٰی : تھوڑا سا دن نکل چکے تو اس وقت سے ضُـحٰی شروع ہو تی ہے اور زوال تک جاتی