تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 89
تم غالب آ جاؤ گے۔کیونکہ اس آیت سے قبل اللہ تعالیٰ ان کو مومن قرار دے چکا ہے۔پس اس کے یہ معنے تو ہو نہیں سکتے کہ اگر تم میں ایمان ہوا تو تمہیں غلبہ حاصل ہو جائے گا بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یعنی جب کہ تم مومن ہو اور خدا اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ تم مغلوب ہو جاؤ اور کفار تم پر غالب آجائیں۔خدا تعالیٰ نے تمہیں دولت ایمان سے مشرف فرمایا ہے اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تمہیں کفار پر غلبہ حاصل نہ ہو اسی طرح اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى جب کہ یہ یقینی اور تحقیقی بات ہے کہ ذِکْرٰی سے ہمیشہ نفع پہنچتا ہے تو پھر اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ذِکْرٰی کو چھوڑیو نہیں بلکہ دن اور رات اس میں مشغول رہیو۔اگر آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ان لوگوں کے سینے کھل جائیں گے اور یہ ہدایت کو قبول کر لیں گے۔پس یہاں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ایک دو دفعہ نصیحت کرو اگر فائدہ نہ ہو تو چھوڑ دو۔بلکہ حکم یہ دیا گیا ہے کہ ہمیشہ نصیحت کرتے جاؤ کیونکہ نصیحت ایسی چیز ہے جو ضرور دل پر اثر کرتی ہے۔سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى ۙ۰۰۱۱ جو (خدا تعالیٰ سے) ڈرتا ہے وہ یقیناً نصیحت حاصل کرے گا۔تفسیر۔انسانی حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قلبی کیفیات ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں۔کبھی اس پر خشیت کی حالت طاری ہوتی ہے اور کبھی عدم خشیت کی۔جب انسانی قلب پر الٰہی خشیت طاری ہو اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی ہیبت سے وہ متاثر ہو تو اس وقت معمولی سے معمولی نصیحت بھی بڑا گہرا اثر کرتی ہے لیکن اگر دل میں خشیت نہ ہو تو اعلیٰ سے اعلیٰ نصیحت بھی بےکار ہو جاتی ہے۔ہر شخص کو اپنی زندگی میں اس کا تجربہ ہو گا کہ بعض دفعہ ایک بات کسی شخص کو بیسیوں دفعہ کہی جاتی ہے مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور بعض دفعہ صرف ایک مرتبہ کہی جاتی ہے تو فوراً اس کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انسانی قلب کی حالت بدلتی رہتی ہے کبھی اس پر خشیت کی گھڑیاں آتی ہیں اور کبھی عدم خشیت کی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ وعظ و نصیحت کے متعلق دوام سے کام لینے کی وجہ بیان فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ چونکہ انسانی قلب پر خشیت کے اوقات بھی آتے رہتے ہیںاور کوئی شخص نہیں جانتا کہ سامع پر وہ گھڑی جب ہدایت کے لئے اس کا سینہ کھل جائے کب آئے گی اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم ہمیشہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے دوسرے کی ہدایت کا کون سا وقت مقرر ہے۔