تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 90
وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ۰۰۱۲ اور (اس کے برخلاف) جو نہایت بدبخت ہو گا وہ اس سے گریز ہی کرتا رہے گا۔حلّ لُغات۔یَتَجَنَّبُھَا۔یَتَجَنَّبُـھَا یَتَجَنَّبُ تَـجَنَّبَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور تَـجَنَّبَہُ کے معنے ہیں بَعُدَ عَنْہُ یعنی اس سے دور ہو گیا (اقرب) پس یَتَجَنَّبُ کے معنے ہوں گے وہ دور ہوجائے گا۔اَلْاَشْقٰی۔اَشْقٰی شَقِیَ سے ہے اور شَقِیَ الرَّجُلُ (یَشْقٰی۔شَقًا وَشَقَاءً وَشَقَاوَۃً وَشِقَاوَۃً وَشَقْوَۃً وَشِقْوَۃً) کے معنے ہیں کَانَ شَقِیًّا ضِدُّ سَعِدَ فَھُوَ شَقِیٌّ جَـمْعُہٗ اَشْقِیَاءُ (اقرب) یعنی شقاو ت سعادت کے مقابل کا لفظ ہے۔جیسے سعید کے مقابلہ میں شقی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے معنے اس شخص کے ہوتے ہیں جس میں نیکی کی قابلیت مر جاتی ہے۔مفردات والے کہتے ہیں کَمَا اَنّ السَّعَادَۃَ فِی الْاَصْلِ ضَـرْبَانِ سَعَادَۃٌ اُخْرَوِیَّۃٌ وَسَعَادَۃٌ دُنْیَوِیَّۃٌ ثُمَّ السَّعَادَۃُ الدُّنْیَوِیَّۃُ ثَلَاثَۃُ اَضْرُبٍ سَعَادَۃٌ نَفْسِیَّۃٌ وَبَدَنِیَّۃٌ وَخَارِجِیَّۃٌ کَذٰلِکَ الشَّقَاوَۃُ عَلٰی ھٰذِہِ الْاَضْرُبِ وَفِی الشَّقَاوَۃِ الْاُخْرَوِیَّۃِ قَالَ فَلَا يَضِلُّ وَ لَا يَشْقٰى(طٰہٰ:۱۲۴)۔۔۔وَفِی الدُّنْیَوِیَّۃِ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(طٰہٰ:۱۱۸) قَالَ بَعْضُھُمْ قَدْ یُوْضَعُ الشَّقَاءُ مَوْضِعَ التَّعَبِ نَـحْوَ شَقَیْتُ فِیْ کَذَا وَکُلُّ شَقَاوَۃٍ تَعَبٌ وَلَیْسَ کُلُّ تَعَبٍ شَقَاوَۃً فَالتَّعَبُ اَعَمُّ مِنَ الشَّقَاوَۃِ (مفردات)۔یعنی شقاوت سعادت کے مقابل کی چیز ہے۔جس طرح سعادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک سعادت اخروی اور ایک سعادت دنیوی اسی طرح شقاوت بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک شقاوت اخروی اور ایک شقاوت دنیوی۔پھر دنیوی سعادت آگے تین قسم کی ہوتی ہے۔ایک سعادت نفسیہ یعنی انسانی نفس میں نیکی اور شرافت پائی جائے۔ایک سعادت بدنیہ یعنی انسانی جسم باصحت اور تندرست ہو۔کسی قسم کی بیماری اس میں نہ ہو اور ایک سعادت خارجیہ یعنی انسان کے دوست اور اس کے رشتہ دار آرام میں ہوں۔اس کے متعلقین کو کسی قسم کا دکھ نہ ہو۔ملک میں بد امنی نہ ہو اور اس طرح خارجی طور پر اسے سکون اور اطمینان حاصل ہو۔اگر انسانی نفس تو مطمئن ہو مگر اس کے رشتہ داروں کو تکلیف ہو۔دوست مصائب میں مبتلا ہوں یا ملک میں بد امنی رونما ہو۔تب بھی انسان تکلیف محسوس کرتا ہے اور اگر رشتہ دار اور دوست تو آرام میں ہوں لیکن اس کا اپنا جسم بیمار ہو تب بھی اسے اطمینان نہیں ہو سکتا۔تکمیل سعادت اسی وقت ہو سکتی ہے جب تینوں قسم کی سعادت یعنی سعادت نفسیہ، سعادت بدنیہ اور سعادت خارجیہ اسے حاصل ہو۔اسی طرح شقاوت کی بھی تین قسمیں ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی شقاوت اخرویہ اور شقاوت دنیویہ