تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 88
اچھا نکلے گا یا برا نکلے گا۔اس مشکل کو دیکھتے ہوئے بعض مفسرین نے اس کے یہ معنے کئے ہیںکہ نصیحت کرو اگر فائدہ نہ ہو تو بے شک چھوڑ دو(بحر محیط زیر آیت ’’ فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى ‘‘)۔یہ معنے کہاں تک درست ہیں اس کے لئے ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھنا چاہیے کہ آیا آپؐکا یہ طریق تھا کہ آپؐبرابر نصیحت کرتے چلے جاتے تھے یا جب آپؐنصیحت کا کوئی فائدہ نہ دیکھتے تو چھوڑ دیتے تھے۔یہ سورۃ مکی ہے اور ابتدائی زمانۂ نبوت میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔مگر باوجود اس آیت کے نزول کے ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں کو برابر تیرہ سال تک نصیحت کرتے چلے گئے۔اور آپؐنے ایک دن کے لئے بھی ان کو سمجھانا ترک نہیں کیا۔اگر اس آیت کے یہی معنی ہوں کہ نصیحت کا اگر فائدہ نہ ہو تو بےشک اسے چھوڑ دیا جائے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ اس آیت پر عمل نہیں کیا۔آپؐدیکھتے تھے کہ نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں نکل رہا مگر اس کے باوجود آپؐسمجھاتے چلے جاتے تھے۔پھر یہود کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے آپؐنے کتنا زور لگایا بار بار ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔بار بار ان کو وعظ و نصیحت کرتے تھے اور کبھی اس بنا پر اپنی کوششوں کو ترک نہیں کرتے تھے کہ جب وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو سمجھانے کا کیا فائدہ۔پس فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ایک دفعہ نصیحت کرو اور کوئی نہ مانے تو اسے چھوڑ دو۔جس طرح پرانے زمانہ کی عورتیں بعض دفعہ دوسرے کو سمجھانے کے لئے کوئی بات کہتیں اور وہ نہ مانتا تو کہتیں ’’جہنم میں جاؤ ہمیں کیا‘‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ان معنو ں کے خلاف ہے۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ان معنوں کو درست قرار دیا جائے ہاں اتنا بے شک درست ہے کہ ہنسی اور مذاق کرنے والے لوگوں کی مجالس سے اٹھ جانے کا حکم ہے مگر یہ حکم نصیحت نہ ماننے کی وجہ سے نہیں بلکہ تمسخر کرنے اور شعائر اللہ کی ہتک کرنے کی وجہ سے ہے۔سنجیدہ لوگوں کو تبلیغ کرتے جانے کا ہی حکم ہے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ گو اِنْ کے معنے شرط کے ہیں مگر اس جگہ یہ مکفّرین کے لئے توبیخ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں یعنی اس امر کے اظہار کے لئے کہ کفار بڑے ضدی ہیں اور نصیحت کم ہی مانتے ہیںاس لئے ان میں سے بہت سے لوگ ضد کرتے جائیں گے۔غرض اِنْ نصیحت کی حد بندی کے لئے نہیں ہے بلکہ جن کو نصیحت کی جائے گی ان کی سنگ دلی کے اظہار کے لئے ہے۔یہ معنے محاورہ کے مطابق ہیں اور ان سے اشکال بھی دور ہو جاتا ہے۔بعض نحویوں نے یوں تاویل کی ہے کہ اس جگہ اِنْ اِذْ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اٰل عـمران:۱۴۰) یہاں یہ معنے نہیں کہ اگر تم مومن ہو تو