تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 83
یہ ہے کہ وہ حمد کا لفظ منہ سے تو بولیں گے مگر ان کے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بالکل خالی ہوں گے۔وہ رب کا لفظ تو استعمال کریں گے مگر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر کامل ایمان ان کے دلوںمیں نہیں ہو گا۔وہ ظاہر میں مسلمان کہلائیں گے۔پس قرآن کریم ظاہر میں محفوظ رہے گا۔لیکن چونکہ وہ باطن میں اسلام کو کھو دیں گے۔قرآن کا مغز بھی ان سے اٹھ جائے گا۔غرض اس جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت دو قسم کی ہے ایک لفظی حفاظت اور ایک معنوی حفاظت لفظی حفاظت کے متعلق یہ وعد ہ ہے کہ وہ غیر فاصل ہو گی۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جب قرآن کریم کے الفاظ میں تغیر و تبدل ہو جائے۔مگر معنوی غیر فاصل حفاظت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں۔بےشک وہ حفاظت بھی مستقل طور پر ہو گی مگر غیر فاصل نہیں ہو گی۔بلکہ اُمّت محمدیہ بگڑ جائے گی تو کوئی نبی آجائے گا پھر بگڑے گی تو پھر کوئی نبی آجائے گا۔ظاہری حفاظت بغیر کسی وقفہ کے ہو گی۔لیکن باطنی حفاظت گو ہو گی قیامت تک مگر وقفوں کے ساتھ ہو گی۔اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى میں اس بات کا جواب کہ قولِ فصل کے بعدکسی وحی کی کیا ضرورت ہے اس آیت میں تفصیلی طور پر اس اعتراض کا جواب آگیا ہے کہ قولِ فصل کے بعد کسی الہام یا کسی مامور کی بعثت کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ ظاہر میں یہ شریعت ہمیشہ محفوظ رہے گی اس لئے ظاہر میں کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں ہو گی۔لیکن باطن میں چونکہ نقص پیدا ہوتا رہے گا اس لئے ضروری ہے کہ افہام و تفہیم کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاؑء اور مامور مبعوث ہوتے رہیں جو قرآن کریم کی معنوی حفاظت کا فرض سرانجام دیں۔اور جس چیز کو لوگ بھول چکے ہوں اس کو دوبارہ الٰہی تائید سے تازہ کر دیں۔اگر مسلمانوں میں خرابی پیدا نہ ہونی ہوتی تو کسی مامور کی ضرورت بھی نہیں تھی۔لیکن چونکہ مسلمانوں کے متعلق یہ مقدر ہے کہ ایک عرصہ گذرنے کے بعد ان میں خرابی پیدا ہو جائے گی۔اسلام کی حقیقت محو ہو جائے گی۔محض رسمی طور پر لوگ مسلمان کہلائیں گے قرآن کی طرف اپنے آپ کو منسوب کریں گے لیکن مغز ِقرآن دنیا سے اٹھ جائے گا اور مسلمانوں کی عملی حالت سخت خراب ہو جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ دوبارہ اسلام کو زندہ کرنے اور قرآن کریم کی تعلیم کو قائم کرنے کے لئے اس کی طرف سے کوئی مامور مبعوث ہو۔