تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 82

کو یاد رکھیں گے مگر معناً اس کو بھول جائیں گے۔الفاظ کو تو قائم رکھیں گے مگر آدمؑ کی طرح الفاظ کی روح کو بھول جائیں گے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْـمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْـمُہٗ (مشکاۃ المصابیح کتاب العلم فصل الثالث) یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا جب قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔ایمان اور اسلام کی روح اڑ جائے گی۔اسی کا اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ میں استثناء کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ تم اس قرآن کو نہیں بھولو گے مگر ایک قسم کا نسیان ہو سکے گا۔یہ مطلب نہیں کہ سورۃ اعراف نہیں مٹے گی اور سورۃ مائدہ مٹ جائے گی یا سورۃ کوثر نہیں مٹے گی اور سورۃ الناس مٹ جائے گی۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ تو باقی رہیں گے مگر معنے اڑ جائیں گے پس اِلَّا اس جگہ قرآن کریم کے الفاظ کے ٹکڑوں کے استثناء کے طور پر استعمال نہیں ہوا بلکہ دو قسم کی حفاظتوں میں سے ایک قسم کی حفاظت کی نسبت استعمال ہوا ہے۔اور اس میں قولِ فصل کے متعلق اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر یہ قولِ فصل ہے تو پھر کسی اور مامور کی کیا ضرورت ہے۔سو بتایا کہ قرآن کریم کے ظاہر کی حفاظت غیر فاصل کا وعدہ ہے اس کی معنوی غیر فاصل حفاظت کا وعدہ نہیں۔وہ مستقل تو ہو گی مگر غیر فاصل نہیں۔جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو نااہل پائے گا۔مغزِ قرآن اڑ جائے گا۔جسے واپس لانے کے لئے پھر ایک مامور کی ضرورت ہو گی۔اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى اس آیت میں اللہ تعالیٰ وجہ بیان فرماتا ہے کہ کیوں ایک زمانہ میں مغزِ قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا۔اور صرف الفاظ لوگوں کے پاس باقی رہ جائیں گے۔فرماتا ہے خدا لوگوں کی قلبی اور ان کی ظاہری حالت کو خوب جانتا ہے۔جب تک مسلمانوں کا ظاہر بھی درست رہے گا اور ان کا باطن بھی درست رہے گا قرآن ظاہر میں بھی محفوظ رہے گا اور باطن میں بھی محفوظ رہے گا۔جب مسلمان صرف ظاہر میں مسلمان کہلائیں گے ان کا باطن خراب ہو جائے گا۔قرآن کا بھی صرف ظاہر ٹھیک رہے گا اس کا باطن یعنی مغز ان سے اٹھ جائے گا۔خدا ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی جانتا ہے۔جب مسلمانوں کے دل میںایمان نہیں رہے گا تواللہ تعالیٰ قرآن کریم کے معنے ان پر کیوں کھولے گا۔قرآن کریم تو ایک نور ہے جو صرف نورانی لوگوں پر کھل سکتا ہے۔بد عمل اور بےایمان لوگ اس کے معارف سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔پس اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ میں مسلمانوں کی آخری زمانہ کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں پر ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب وہ الفاظ کو تو یاد رکھیں گے مگر عمل کرنا بھول جائیں گے۔یہ مطلب نہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کے الفاظ بھول جائیں گے بلکہ مطلب