تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 70

پھر نولڈکے جرمن مستشرق لکھتا ہے کہ۔’’ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں (یعنی طرزِ تحریر کی) ہوں تو ہوں۔لیکن جو قرآن عثمانؓ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اس کا مضمون وہی ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیش کیا تھا۔گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔یورپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی۔بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں۔‘‘ (The Encyclopedia Britanica Under Word "Koran") قرآن مجید کے محفوظ ہونے پر یورپین علماء کی شہادتیں الغرض یورپین مصنفین نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ جہاں تک قرآن کی ظاہری حفاظت کا سوال ہے اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ لفظاً لفظاً اور حرفاً حرفاً یہ وہی کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پڑھ کر سنائی۔غور کرو اور سوچو کہ یہ کتنی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ان چند الفاظ میں کی گئی کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى اور پھر یہ پیشگوئی اس زمانہ میں کی گئی ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف چند لوگ ایمان لانے والے پائے جاتے تھے ساری دنیا آپؐکی مخالف تھی۔اور وہ آپؐکے نام کو صفحۂ ہستی سے معدوم کرنے کے لئے تُلی ہوئی تھی۔یہ نہیں کہ لاکھوں اور کروڑوں لوگ آپؐکے ساتھ ہوں اور آپؐایک جتھہ کو اپنے اردگرد دیکھ کر کہنے لگ گئے ہوں کہ اب اس کتاب کو کوئی مٹا نہیں سکتا بلکہ آپؐیہ پیشگوئی ایسی حالت میں کرتے ہیں جب آپؐدنیا کے ہر تیر کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور آپؐپر ایمان لانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ایسی نازک اور کمزور حالت میں آپؐفرماتے ہیں یہ قرآن دنیا میں قائم رہے گا اور کوئی شخص اس کو مٹانے کی قدرت نہیں رکھے گا۔لاکھوں اور کروڑوں ماننے والوں کے ہوتے ہوئے وید بدل گئے۔لاکھوں اور کروڑوں ماننے والوں کے ہوتے ہوئے تورات بدل گئی۔لاکھوں اور کروڑوں ماننے والوں کے ہوتے ہوئے انجیل بدل گئی۔لاکھوں اور کروڑوں ماننے والوں کے ہوتے ہوئے زرتشت کی کتابیں بدل گئیں۔لیکن ایک انسان جس کے ساتھ صرف اسّی۸۰ ،نو۹۰ے آدمی ہیں۔وہ ایک ایسے ملک میں جہاں حفاظت کا کوئی سامان نہ تھا۔جہاں کسی قسم کی لائبریریاں نہ تھیں۔جہاں کسی قسم کی تعلیم کا رواج نہ تھا۔اعلان کرتا ہے کہ میری یہ کتاب ہمیشہ محفوظ رہے گی۔قیامت تک قائم رہے گی اور دنیا اس کے ایک شوشہ کو بھی بدلنے کی طاقت نہیں رکھے گی۔اگر مکہ کے لوگ پڑھے لکھے ہوتے تب بھی خیال کیا جا سکتا تھا کہ شائد مکہ کے لوگوں کی تعلیمی قابلیت کو دیکھ کر ایسا اعلان کیا گیا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ اسلام ان