تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 69
کے اشد تریں معاند بھی آج کھلے بندوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اسی شکل وصورت میں محفوظ ہے جس شکل و صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیش فرمایا۔نولڈکے، سپرنگر اور ولیم میور سب نے اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے کہ قطعی اور یقینی طور پر ہم سوائے قرآن کریم کے اور کسی کتاب کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس شکل میں بانیٔ سلسلہ نے وہ کتاب پیش کی تھی اسی شکل میں وہ دنیا کے سامنے موجود ہے۔صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے متعلق حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو یہ کتاب دی تھی اسی شکل میں اب بھی محفوظ ہے۔وہ لوگ چونکہ اس بات کے قائل نہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب خود بنائی ہے اس لئے وہ یہ تو نہیں کہتے کہ جس شکل میں یہ کتاب نازل ہوئی تھی اسی شکل میں محفوظ ہے مگر وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب پیش کی تھی اسی شکل میں یہ کتاب اب تک دنیا میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب ’’دی کران‘‘(القرآن) میں لکھتے ہیں۔’’یہ تمام ثبوت دل کو پوری تسلی دلا دیتے ہیں کہ وہ قرآن جسے ہم آج پڑھتے ہیں لفظاً لفظاً وہی ہے جسے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا تھا‘‘ (The Coran, its Composition and teachings p:40) پھر سرولیم میور اپنی کتاب لائف آف محمد میں لکھتے ہیں کہ۔’’اب جو قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے گو یہ بالکل ممکن ہے کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے زمانہ میں اسے خود بنایا ہو۔اور بعض دفعہ اس میں خود ہی بعض تبدیلیاں بھی کر دی ہوں۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں دیا تھا۔‘‘ (Life of Mahomet by Sir William Muir P:562,563) اسی طرح سے لکھتے ہیں کہ۔ہم نہایت مضبوط قیاسات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک آیت جو قرآن میں ہے وہ اصلی ہے۔اور محمد (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی غیر محرف تصنیف ہے۔‘‘ (Life of Mahomet by Sir William Muir P:562,563)