تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 71

لوگوں میں آیا جو لکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ابتدائی مکی صحابہؓ میں سے صرف تین چار ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔زیادہ سے زیادہ سات افراد سمجھ لو۔اور کل جماعت جو آپؐ کے اردگرد تھی وہ اسّی۸۰ ،نو۹۰ے افراد سے زیادہ نہیں تھی۔ایسی حالت میں یہ کتنی زبردست اور عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ ہم تجھے قرآن پڑھائیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تُو قرآن کو بھولے گا نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے دوسروں کو خاص طور پر نہیںپڑھایا مگر تیرے لئے چونکہ ہماری ربوبیت اعلیٰ ظاہر ہوئی ہے اس لئے ہم تجھے ایسا اعلیٰ درس دیں گے جو تجھے کبھی نہیں بھولے گا۔یعنی وہ کلام جو تجھ پر نازل ہو گا وہ ہمیشہ دنیا میں قائم رہے گا۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کے کیسے سامان پیدا فرما دئیے کہ نہ صرف اس نے باطنی حفاظت کی بلکہ ظاہری حفاظت کے لئے بھی اس نے متعدد سامان پیدا کردیئے۔قرآن مجید کے ظاہری حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ چھ سامان پہلا سامان اختلاف امت مسلمہ پہلاسامان جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کے لئے کیا وہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معاً بعد مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔اگر ایک ہی متفق جتھہ حکومت کرتا رہتا تو ممکن تھا کہ کسی وقت ایمان کی کمزوری پیدا ہو کر وہ اپنی مرضی کے خلاف آیات قرآن کریم میں سے نکال دینے کی کوشش کرتا۔مگر آنحضرت صلعم کی وفات کے معاً بعد ادھر انصار میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ ہم خلافت کے مستحق ہیں اور ادھر مہاجرین میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ ہم خلافت کے مستحق ہیں۔اور اس کے نتیجہ میں ان میں رقابت اور اختلاف پیدا ہو گیا۔اور وہ ایک دوسرے کے حالات کے کڑے نگران بن گئے۔دیکھ لو اس وقت ہم میں اور غیر مبایعین میں اختلاف ہے۔یہ اختلاف خواہ کس قدر تکلیف دہ ہو مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہم ایک دوسرے کے نگران رہتے ہیں۔ذرا کوئی بات ہو تو ہم شور مچا دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے تو ایسا لکھا ہے اور تم اس کے خلاف بات پیش کر رہے ہو۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معًا بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی آپس میں رقابت پیدا کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر فریق دوسرے کے حالات کا نگران بن گیا اور کسی بے ایمان سے بے ایمان کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ وہ قرآن کریم میں کسی قسم کی تحریف یا تغیر پیدا کر سکے۔پھر اس وقت جب ابھی ہزاروں ہزار لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے زندہ تھے اللہ تعالیٰ نے شیعوں اور سنیوں کا اختلاف پیدا کر دیا۔اور پھر خوارج کا گروہ نمودار ہو گیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دَور میں شیعہ اور سُنّی دو گروہ بن چکے تھے۔چنانچہ عبداللہ بن سباء شیعیت کے