تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 60

کے لئے قرآن کریم کامل الہامی کتاب ہے مگر یہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ آئندہ کبھی بھی قرآن کریم کے علاوہ کسی کتاب کی ضرورت نہیں ہو گی یا اس کی تعلیم کبھی فنا نہیں ہو گی۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور زمانہ میں یہ کتاب مٹ جائے اور اس کی جگہ کوئی اور کتاب آ جائے۔دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کامل کتاب ہے اور ویسی ہی خوبیاں اپنے اندر رکھتی ہے جیسی تم بیان کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اس کے بعد اب کوئی اور کتاب نازل نہیں ہو سکتی تو پھر قرآن کریم یہ کیوں کہتا ہے کہ ایک اور موعود آئے گا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیوں کہتے ہیں کہ میرے بعد ایک اور مامور آئے گا؟ پس یہ د۲و سوال ابھی قابلِ جواب باقی تھے۔اوّل یہ کہ ہم کیونکر مان لیں کہ قرآن کریم آخر تک نہ بگڑے گا۔اور دوسرے یہ کہ اگر یہ کامل الہامی کتاب ہے تو اس کے بعد کسی موعود کی خبر کیوں دی گئی ہے۔ان دونوں سوالات کا ضمنی جواب خَلَقَ فَسَوّٰى اور قَدَّرَ فَهَدٰى میں آ چکا ہے مگر وہ ضمنی جواب تھا۔تفصیلی جواب جو مخصوص جواب کہلا تا ہے وہ ابھی نہیں آیا۔اب اللہ ان دونوں سوالات کا جواب دیتا ہے۔پہلا سوال یہ تھا کہ ہم یہ کیونکر مان لیں کہ قرآن کریم قولِ فصل ہے ہم کیوں نہ یہ کہیں کہ ایک زمانہ کے بعد یہ بھی بدل جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى۔الٰہی قانون یہ ہے کہ جن قانونوں نے بدلنا ہوتا ہے وہ ساتھ کے ساتھ مٹتے چلے جاتے ہیں انسان کو دیکھو اس نے چونکہ مرنا ہوتا ہے اور اس کی جگہ کسی اور قائم مقام نے آنا ہوتا ہے اس لئے ایک عمر کے بعد وہ بوڑھا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ضعف و اضمحلال کے آثار اس میں پیدا ہونے لگتے ہیں جن سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ اب یہ فنا ہو گا اور اس کی جگہ کوئی اور قائم مقام کھڑا ہو گا۔پس وہ چیزیں جن کو خاص طور پر ایک لمبے عرصہ کے لئے پیدا نہیں کیا گیا جیسے سورج ہے یا چاند ہے ایک عرصہ گذرنے کے بعد بوڑھی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور ان پر بڑھاپے کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔یہ بڑھاپا انسان پر بھی آتا ہے حیوانات پر بھی آتا ہے درختوں پر بھی آتا ہے چراگاہوں پر بھی آتا ہے۔پس الٰہی قانون یہ ہے کہ جو چیزیں مٹنے والی ہوتی ہیں ان پر اضمحلال اور بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں جن سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اب وہ مٹ جائیں اور ان کی جگہ نئی چیزیں پیدا کی جائیں یہی قانون ہمیں سابق الہامی کتب کے متعلق کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کوئی ایک الہامی کتاب بھی ایسی نہیں جو اپنی اصل صورت میں دنیا میں پائی جاتی ہو۔کتاب ایک ہوتی ہے مگر اس کے کسی نسخہ میں کچھ لکھا ہوتا ہے اور کسی نسخہ میں کچھ۔انجیل کو ہی دیکھ لو آج کل چار اناجیل ہیں مگر ان چاروں اناجیل میں