تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 61
بیسیوں اختلافات پائے جاتے ہیں۔پھر یہ چار انجیلیں بھی جس رنگ میں منتخب کی گئی ہیںوہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کو الہامی قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔جس وقت ان چار اناجیل کا انتخاب کیا گیا ہے اس وقت تین سو اناجیل عیسائیوں کے پاس موجود تھیں۔(Dictionary of The Bible, By Dr۔W۔Smith Vol,11 P:943) وَاللہُ اَعْلَمُ یہ بات کہاں تک صحیح ہے مگر لوگ کہتے ہیں کہ پادریوں نے لمبی بحث کے بعد جب دیکھا کہ ہم میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا کہ ان تین سو اناجیل میں سے کون سی مستندہیں اور کون سی غیر مستند تو انہوں نے ساری انجیلیں ایک میز پر رکھ دیں اور کتابوں پر زور سے ایک ڈنڈہ مارا۔جو کتابیں اوپر رہ گئیں ان کو مستند قرار دے دیا اور جو نیچے گر گئیں ان کو غیر مستند قرار دے دیا۔جس طرح مشہور ہے کہ ایک سست استاد بجائے لڑکوں کے پرچے پڑھنے کے اپنے سامنے میز پر پرچے رکھ کر زور سے ہاتھ مارتا۔جن لڑکوں کے پر چے نیچے گر جاتے ان کو فیل کر دیتا اور جن لڑکوں کے پرچے اوپر رہ جاتے ان کو پاس کر دیتا۔اسی طرح پادریوں نے کیاکہ انجیلیں اپنے سامنے رکھ لیں ڈنڈا ہاتھ میں لیا اور زور سے ان کتابوں پر مارا۔جو نیچے گر گئیں ان کے متعلق سمجھ لیا کہ یہ غیر مستند ہیں اور جو اوپر رہ گئیں ان کو الہامی قرار دے دیا۔لیکن اگراس واقعہ کو درست نہ سمجھا جائے اور چار اناجیل کا انتخاب پادریوں کے غور وفکر کا نتیجہ قرار دیا جائے تب بھی اگر انسانی غور و خوض ایک کتاب کو اصلی اور الہامی کہہ سکتا ہے تو وہی غور وخوض ایک نئی شریعت بھی بنا سکتا ہے۔اور اگر انسانی غور وفکر کوئی شریعت نہیں بنا سکتا تو انسانی غور وخوض کے نتیجہ میں قطعی طور پر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں یقینی الہام ہے۔جب ایک ہی بات کے د۲و مدعی ہوں تو اس وقت ان میں سے کسی ایک کے حق میں اس وقت تک قطعاً فیصلہ نہیں دیا جا سکتا جب تک بیرونی اور اندرونی شہادت اس فیصلہ کی تائید میں موجود نہ ہو۔بہرحال سابق الہامی کتب کے مٹنے کا سلسلہ ان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ کتب دائمی ہدایت کے لئے نازل نہیں ہوئی تھیں۔اور تو اور خود ان مذاہب کے پیرو اور ان کتب پر ایمان رکھنے والے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کتب ایک لمبے عرصہ سے مٹتی چلی آ رہی ہیں۔خود عیسائی مانتے ہیں کہ اناجیل حضرت مسیح ناصریؑ کے کئی سو سال کے بعد تصنیف کی گئی ہیں اور انسانوں نے یہ کتابیں لکھی ہیں، آسمان سے نازل نہیں ہوئیں۔پھر اناجیل کے نسخہ جات میں اختلاف خود عیسائی محققین بھی تسلیم کرتے ہیں۔یہی حال تورات کا ہے۔تورات کی اندرونی شہادت سے یہ امر ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ کتاب مٹ گئی تھی۔اور اس کے مٹنے کا باعث یہ ہوا کہ چھٹی صدی قبل مسیحؑ یعنی چودھویں صدی ابراھیمیؑ کے آخر میں جب بخت نصر نے بیت المقدس کو جلا دیا تو تورات کی مقدس کتابیں بھی جل گئیں اور یہود قید ہو کر بابل میں لے جائے گئے۔جہاں ستّر سال تک