تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 59

قَالَ الرَّاغِبُ: اَلنِّسْیَانُ تَرْکُ الْاِنْسَانِ ضَبْطَ مَااسْتُوْدِعَ۔امام راغب کہتے ہیں نسیان کے ایک معنے یہ ہیں کہ جس چیز کا خیال رکھنا انسان کے سپرد تھا اس نے اس کا خیال ترک کر دیا۔اِمَّا لِضُعْفِ قَلْبِہٖ۔یا تو حافظہ کی خرابی کی وجہ سے یعنی وہ بھول گیا۔اَوْ عَنْ قَصْدٍ حَتّٰی یَنْحَذِ فَ عَنِ الْقَلْبِ ذِکْرُہٗ۔اور یا جان بوجھ کر وہ اس کا خیال اپنے ذہن میں نہیں آنے دیتا۔یعنی وہ چیز اسے بھولی تو نہیں مگر اس پر عمل کرنا اس نے چھوڑ رکھا ہے اور اس کے ساتھ اس کا تعلق کم ہو گیا ہے۔وَعَلَیْہِ ’’وَلَاتَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ‘‘ اَیْ لَا تَقْصِدُوا التَّرْکَ وَالْاِھْمَالَ۔وہ کہتے ہیں لَاتَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ کے بھی یہی معنے ہیں کہ تم ایک دوسرے پر احسان کرنا چھوڑا نہ کرو۔یہ مطلب نہیںکہ تم بھولا نہ کرو۔(اقرب) گویا لغتاً ترک عمل کے لئے بھی نسیان کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔پس فَلَا تَنْسٰی کے د۲و معنے ہوئے ایک یہ کہ تم اسے بھولو گے نہیں اور دوسرے یہ کہ تم اسے چھوڑو گے نہیں۔یعنی اس پر عمل کرنا ترک نہیں کرو گے۔تفسیر۔یہ بات تو اوپر کی آیات میں بیان ہو چکی ہے کہ انبیاءِ سابقین کے زمانہ میں صرف وقتی اور عارضی تعلیمات کا آنا اور قولِ فصل کا نازل نہ ہونا خلاف سنّت نہیں۔قولِ فصل اسی وقت آ سکتا تھا جب دنیا اس کی برداشت کر سکتی اور زمانہ کو اس کی ضرورت ہوتی۔چونکہ قولِ فصل کی ضرورت نزول قرآن کے وقت میں ہوئی اس لئے اس کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب ہوا ہے پہلے نہیں ہوا۔مگر اس پر د۲و اعتراض اور پڑتے تھے۔ایک یہ کہ ہم یہ کیوں کر مان لیں کہ یہ کلام قولِ فـصل ہے۔مان لیا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے مگر عارضی اور زمانی اور وقتی چیزیں بھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی رہی ہیں۔پس ہم یہ کیوں نہ سمجھ لیں کہ قرآن کریم بھی انہی وقتی تعلیمات میں سے ہے۔آخر تمہارے نزدیک تورات فنا ہو گئی یا نہیں۔انجیل دنیا سے مٹ گئی یا نہیں۔یا ویدوں کا زمانہ تمہارے نزدیک ختم ہو گیا یا نہیں۔یاژند اور اوستا منسوخ ہو گئیں یا نہیں۔اگر تم ان کتب کے متعلق یہ تسلیم کرتے ہو کہ یہ مٹ گئیں تو اسی طرح ہم کیوں نہ یہ سمجھ لیں کہ اسی قانون کے ماتحت قرآن کریم بھی مٹ سکتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں تو اس کی ضرورت تسلیم کی جا سکتی ہے۔مگر ہم کیوں نہ یہ سمجھ لیں کہ اس زمانہ کے گذرنے کے بعد کسی اور وقت یہ کلام اسی طرح منسوخ ہو جائے گا جس طرح سابق الہامی کتب منسوخ ہوئیں۔اگر کہو کہ یہ کامل کتاب ہے منسوخ نہیں ہو گی تو تمہارا یہ جواب صحیح نہیں اس لئے کہ موسٰی کی کتاب بھی تو اپنے زمانہ کے لئے کامل تھی۔محض تمہارا یہ کہہ دینا کہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے قرآن کریم کامل الہامی کتاب ہے یہ ثابت نہیں کرتا کہ آئندہ بھی یہ کتاب قابلِ عمل رہے گی۔اس سے یہ تو ثابت ہو سکتا ہے کہ موجودہ زمانہ