تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 58

قدرت کا ثبوت ہے پس یہ کہنا کہ وہ خدائی تعلیم کس طرح ہو گئی جو ایک وقت کے بعد منسوخ ہو گئی اگر خدائی تعلیم ہوتی تو کبھی منسوخ نہ ہوتی بالکل احمقانہ بات ہے۔زیادہ تر ہندؤوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اگر اپنا کلام نازل کرے تو پھر اسے کبھی منسوخ نہیں ہونا چاہیے۔اگر کوئی کلام منسوخ ہو جاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ کلام خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا۔مگر ان کا یہ خیال قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔قانون قدرت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی چیزیں پیدا کی ہیں وہ بھی جو لمبی زندگی رکھتی ہیں اور وہ بھی جو عارضی زندگی رکھتی ہیں۔کوئی چیز ایسی ہے جو چند منٹوں میں فنا ہو جاتی ہے۔کوئی چیز ایسی ہے جو چند گھنٹوں کی زندگی حاصل کر کے فنا ہو جاتی ہے۔کوئی چیز ایسی ہے جو چند مہینوں کے بعد فنا ہو جاتی ہے۔کوئی چیز ایسی ہے جو چندسالوں کے بعد فنا ہو جاتی ہے اور کوئی چیز ایسی ہے کہ جب سے انسان آیا اسے دیکھتا چلا آیا اور جب تک رہے گا اسے دیکھتا چلا جائے گا۔جن لوگوں نے اَحْوٰى کے معنے نہایت سرسبز و شاداب کے کئے ہیں (تفسیر روح المعانی زیر آیت فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰى) ان کو یہاں مشکل پیش آئی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اور غُثَاءٌ ردّی اور ٹوٹی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔اور ردّی چیز کے متعلق یہ کہنا کہ وہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے درست نہیں۔اس مشکل کا حل انہوں نے اس طرح کیا ہے کہ اَحْوٰى کو انہوں نے مَرْعٰی کا حال بنا دیا ہے اور فَجَعَلَهٗ غُثَآءً کو جملہ معترضہ قرار دیا ہے۔گویا ان کے نزدیک اَحْوٰى مَرْعٰی کے ساتھ لگتا ہے اور معنے یہ ہیں کہ جس خدا نے چارے کو نہایت سرسبز وشاداب بنایا ہے وہی خدا اس چارہ کو کچھ عرصہ کے بعد غُثَآءً بنا دیتا ہے۔یعنی باوجود اس کی سرسبزی وشادابی کے اس پر وہ زمانہ بھی آجاتا ہے جب وہ گل سڑ جاتا ہے۔اسی طرح سابق تعلیمات صرف وقتی ضرورت کو پورا کرتی تھیں مگر ایک وقت کے بعد سڑ جاتی تھیں آخر وہ وقت آ گیا کہ بنی نوع انسان کو مستقل شریعت دی جائے۔سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ۰۰۷ ہم (اے مسلمان) تجھے (اس طرح) پڑھائیں گے کہ اس کے نتیجہ میں تو بھولے گا نہیں۔حلّ لُغات۔تَنْسٰی۔تَنْسٰی۔نَسِیَ سے مضارع مخاطب کا صیغہ ہے اور نَسِیَ الشَّیْءَ نَسْیًا وَنِسْیَانًا وَنَسَایَۃً وَنَسْوَۃً کے معنے ہوتے ہیں ضِدُّ حَفِظَہٗ یعنی عربی زبان میں نسیان حفظ کے مقابل کا لفظ ہے۔