تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 57
مثلاً سورج اور چاند اور پہاڑ اور زمین اور کانیں وغیرہ۔یہ مستقل وجود رکھنے والی چیزیں ہیں۔غرض دونوں قسم کی مخلوق دنیا میں پائی جاتی ہے۔وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کچھ دن فائدہ پہنچا کر ختم ہو جاتی ہے اور وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو ہمارے نقطۂ نگاہ سے ہمیشہ ہمیش چلتی چلی جاتی ہے۔گو خدا تعالیٰ کے نقطۂ نگاہ سے وہ چیزیں بھی فانی ہیں مثلاً سورج ہے اس کے متعلق خدا ہی جانتا ہے کہ کب پیدا ہوا۔کوئی انسانی نسل نہیں کہہ سکتی کہ اس نے سورج کو پیدا ہوتے دیکھا ہے۔اسی طرح ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ کب فنا ہو گا۔اور نہ ہماری آئندہ نسلیں جان سکتی ہیں کہ یہ کب فنا ہو گا کیونکہ نسل انسانی پہلے فنا ہو گی اور سورج بعد میں۔اور اگر بالفرض دونوں کی تباہی ایک ہی وقت ہو تب بھی جاننا کس نے ہے کہ سورج تباہ ہو گیا۔نسلِ انسانی بھی ختم ہو جائے گی اور سورج بھی ختم ہو جائے گا۔بہرحال کوئی ایسا زمانہ نسلِ انسانی پر نہیں آسکتا جب سورج تباہ ہو جائے اور لوگ یہ کہیں کہ ہمارے باپ دادا سورج کو دیکھتے تھے مگر ہم نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ فنا ہو چکا ہے۔جس طرح ہم سور ج کو دیکھتے چلے آئے ہیں اسی طرح ہماری آئندہ نسلیں بھی اس کو دیکھتی چلی جائیں گی اور کوئی ایسا زمانہ نہیں آئے گا جب انسانی نسل کی موجودگی میں سورج تباہ ہو جائے اور اس کا وجود مٹ جائے۔ا سی طرح چاند اور ستارے اور زمین بھی ان اشیاء میںسے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک لمبی زندگی دی گئی ہے۔پہاڑ بھی اصولاً انہی چیزوں میں شامل ہیں گو پہاڑوں میں چھوٹی موٹی تبدیلیاں زلازل کے نتیجہ میں ہوتی رہتی ہیں مگر بہرحال پہاڑ بھی انسانی پیدائش سے پہلے موجود تھے اور آخر تک موجود رہیں گے۔غرض دونوں قسم کی اشیاء خدا تعالیٰ کی پیدائش میں نظر آتی ہیں اور کوئی شخص ان پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ یہ بھی خدا کی قدرت کا ثبوت ہے اور وہ بھی خدا کی قدرت کا ثبوت ہے۔دنیا میں ہزاروں ہزار ایسی چیزیں ہیں جن میں سے کوئی د۲و دن کی زندگی پاتی ہے کوئی دس دن کی۔کوئی چھ مہینہ کی اور کوئی صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی۔برسات کے موسم میں پَردار چیونٹیاں پیدا ہوتی ہیں جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ہی فنا ہو جاتی ہیں۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ چیونٹی کو بھی پَرلگے۔یہ خاص قسم کی چیونٹیاں برسات میں پیدا ہوتی اور تھوڑی دیر کے بعد ہی فنا ہوجاتی ہیں۔ایک دو گھنٹہ کے بعد گھر میں دیکھو تو ان کے ڈھیروں ڈھیر اور سیروں سیر پَر پڑے ہوئے ملیں گے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جو صرف ڈیڑھ گھنٹہ زندگی پاتی ہے مگر کوئی شخص اس کو دیکھ کر خدا کی خدائی پر اعتراض نہیں کرتا۔وہ یہ نہیں کہتا کہ سورج کو تو خدا تعالیٰ نے لاکھوں سال سے پیدا کیا ہوا ہے اور یہ چیونٹیاں گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ میں ہی ہلاک ہو جاتی ہیں۔بلکہ وہ کہتا ہے یہ چیز بھی خدا کی قدرت کا ثبوت ہے اور وہ چیز بھی خدا کی