تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 45
یہ خدا کی سنّت ہے کہ انسان جب بھی خرابی میں مبتلا ہوتا ہے وہ اس کی ہدایت کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔اگر تم کہو کہ خدا کو قولِ فصل کے بعد اس قسم کی خرابیاں دور نہیں کرنی چاہئیں تو دوسرے الفاظ میں تم خدا تعالیٰ کو موردِ الزام بنانا چاہتے ہو۔پس تمہارا یہ خیال کہ قولِ فصل کے بعد کسی وحی کی ضرورت نہیں ایک غلط اور بے بنیاد خیال ہے۔اگر نقص پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کا سامان اللہ تعالیٰ ضرور کرتا ہے۔ورنہ اس پر اعتراض عائد ہوتا ہے کہ خرابی کا اس نے کیوں علاج نہ کیا۔پس فرماتا ہے آج تک یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ جب بھی دنیا میں خرابی پیدا ہوئی ہم نے اس کو دور کرنے کے سامان پیدا کر دئیے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ علاج خرابی کے مطابق ہونا چاہیے۔مثلًا اگر کوئی شخص ایسا ہے جو معدہ کی خرابی کی وجہ سے روٹی نہیں کھاتا تو اس کا ایسا علاج ہونا چاہیے جس کے نتیجہ میں وہ روٹی کھا سکے۔یہ علاج نہیں ہو گا کہ اس پر کمبل اوڑھا دیا جائے۔اگر انسانوں میں عملی خرابی پیدا ہو جائے تو اس وقت صحیح علاج یہ ہو گا کہ ان کی عملی اصلاح کی جائے۔یہ علاج نہیں ہوگا کہ نئی شریعت نازل کر دی جائے۔لیکن اگر شریعت میں خرابی پیدا ہو جائے تو پھر صحیح علاج یہ ہو گا کہ شریعت کی اصلاح کر دی جائے۔بہرحال جیسا مرض ہو گا ویسا ہی علاج ہو گا۔اگر کتاب بگڑ جائے تو اس کا علاج ہو گا اور اگر لوگ بگڑ جائیں تو ان کا علاج ہو گا۔اگر انسان تو درست ہوں مگر قانون ناقص ہو تو اس وقت قانون کو درست کیا جائے گا اور اگر قانون تو درست ہو مگر لوگوں میں خرابی پیدا ہو جائے تو لوگوں کو درست کیا جائے گا پس خَلَقَ فَسَوّٰى کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا جواب دے دیا جو اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا تھا اور بتا دیا کہ انسان میں جب بھی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ اس کو دور کرتا چلا آیا ہے۔اسی طرح آئندہ بھی جو خرابی پیدا ہو گی وہ اس کو ضرور دور کرے گا۔وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى ۪ۙ۰۰۴ اور جس نے (اس کی طاقتوں کا) اندازہ کیا اور (ان کے مطابق) اسے ہدایت دی۔حلّ لُغات۔قَدَّرَ۔قَدَّرَہٗ عَلَی الشَّیْءِ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ قَادِرًا اس کو قادر بنا دیا۔اور قَدَّرَ فُلَانٌ کے معنے ہوتے ہیں رَوَّیَ وَفَکَّرَفِیْ تَسْوِیَۃِ اَمْرِہٖ اس نے کسی معاملہ میں غور کیا اور سوچا کہ اسے کس طرح سر انجام دے۔قَدَّرَ الشَّیْءَ بِالشَّیْءِ کے معنے ہوتے ہیں قَاسَہٗ بِہٖ وَجَعَلَہٗ عَلٰی مِقْدَارِہٖ اس نے ایک چیز کو دوسری پر قیاس کیا اور اس کے مطابق اسے بنایا(اقرب ) اس آیت میں قَدَّرَ کے تینوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ