تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 46
قَدَّرَہٗ عَلَی الشَّیْءِ یعنی قَدَّرَ الْاِنْسَانَ عَلَی الْھُدٰی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت پر قادر بنایا یعنی اسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ ہدایت پائے اور ترقی کرے۔دوسرے معنوں کے لحاظ سے وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى کا یہ مفہوم ہو گا کہ جس نے انسان کی حالت کا ہمیشہ اندازہ لگایا۔کیونکہ قَدَّرَ فُلَانٌ کے معنے ہوتے ہیں رَوَّیَ وَفَکَّرَ فِیْ تَسْوِیَۃِ اَمْرِہٖ۔پس قَدَّرَفَھَدٰی کے معنے یہ ہوئے کہ جب کبھی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو دور کرنے کی تجویز کی۔اور اس کا خرابی کو دور کرنے کی تجویز کرنا سرسری نہ تھا بلکہ ہمیشہ اس نے اندازہ لگایا کہ خرابی کس قسم کی ہے کتنی بیماری ہے اور کس قدر علاج سے وہ دور ہو سکتی ہے۔درحقیقت علاج میں اسی وقت کامیابی ہوتی ہے جب مرض کے مطابق علاج کیا جائے۔یہ کبھی نہیں ہو گا کہ ایک شخص کو معمولی ملیریا بخار ہو تو ڈاکٹر اسے روزانہ ساٹھ گرین کونین کھلانا شروع کر دے۔لیکن ایک دوسرا شخص جسے شدید ملیریا ہو اسے ڈاکٹر بعض دفعہ اتنی کونین کھلاتا ہے کہ اس کے کان بہرے ہو جاتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص کو کونین زیادہ کیوں دی گئی اور فلاں کو کم کیوں تو یہ اس کی نادانی ہو گی۔کیونکہ علاج مرض کے مطابق ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ خرابی کے مطابق اصلاح کے سامان پیدا فرماتا ہے۔اور قَدَّرَ فَهَدٰى میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کے متعلق پہلے اندازہ لگایا کہ کیا مرض ہے۔وہ شدید ہے یا خفیف کتنے علاج سے وہ اچھی ہو سکتی ہے۔اور پھر اس اندازہ کے مطابق علاج نازل کیا۔قَدَّرَ کے ایک یہ معنے بھی تھے کہ قَاسَہٗ بِہٖ وَجَعَلَہٗ عَلٰی مِقْدَارِہٖ اس نے ایک چیز کو دوسری چیز پر قیاس کیا اور اس کے مطابق اسے بنایا۔اس لحاظ سے آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ انسان کی مرض اور اس کے علاج کا موازنہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کی اصلاح اور درستی کے سامان مہیا کئے۔پہلے معنے تو یہ تھے کہ جس قسم کی مرض تھی اسی قسم کا علاج نازل کیا اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرض کا اندازہ کیا اور پھر جتنی مرض تھی اتنا علاج بھیج دیا۔تفسیر۔الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى کا تعلق پہلی آیت سے یہ آیت اپنے دونوں معنوں کے لحاظ سے پہلی آیت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتی ہے اور اسی مضمون کا تسلسل اس میں پایا جاتا ہے جو الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى میں بیان کیا گیا تھا۔خَلَقَ فَسَوّٰى کے دو معنے کئے گئے تھے۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو معتدل القویٰ اور ترقی کرنے والا بنایا۔دوسرے یہ کہ جب بھی اس میں کوئی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو دور کیا۔ان دونوں معنوں کے لحاظ سے قَدَّرَ فَهَدٰى کے بھی دو معنے ہوں گے۔پہلے معنوں کے مقابل پر یہ کہ چونکہ انسان میں ترقی کی استعداد رکھی گئی تھی اور اسے کامل القویٰ بنایا گیا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس کی طاقتوں کا اندازہ کر کے اس کے