تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 44
دوسری طرف غلاظت بھی اس کے ساتھ لگا دی ہے۔ایک طرف چستی بنائی ہے تو دوسری طرف سستی بنا دی ہے۔ایک طرف کھانے پینے کے سامان بافراط پیدا کر دیئے ہیں تو دوسری طرف روزہ رکھ دیا ہے یعنی اس میں ایسی قوت رکھ دی ہے کہ وہ ضرورت پر فاقہ کشی کر سکتا ہے۔غرض دونوں قسم کے قویٰ انسان میں پیدا کئے گئے ہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ قابلیت رکھی ہے کہ وہ ان قویٰ کا صحیح استعمال کر کے بااخلاق، نیک اور روحانی آدمی بن جائے۔پس فرماتا ہے ایک طرف تو تمام ضروری طاقتیں ہم نے انسان میں رکھ دی ہیں اور دوسری طرف اس میں ترقی کا مادہ پیدا کر دیا ہے تاکہ وہ ان قوتوں سے کام لے کر اخلاقی اور مذہبی رنگ میں ترقی کر سکے۔خَلَقَ فَسَوّٰى کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جب جب اس میں خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کی درستی کے سامان کئے اور اس کی کجی کو دور کیا۔تَسْویہ کے ایک معنے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے عیب پیدا ہونے پر اس عیب کو دور کرنے کے ہوتے ہیں۔پس خَلَقَ فَسَوّٰى کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور جب کبھی اس میں خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو دور کیا۔جو خدا اپنے بندوں کا اس قدر خیال رکھتا ہے اور ہر خرابی پر اس کو دور کرنے کے سامان مہیا کرتا ہے اس کی طرف یہ عیب کبھی منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ خرابی تو پیدا ہو مگر وہ اس کو دور کرنے کے سامان مہیا نہ کرے۔پہلی سورۃ میں بیان شدہ قولِ فصل کے متعلق ایک شک کا ازالہ دیکھو! اللہ تعالیٰ نے یہاں کس لطافت سے اس اعتراض کا جواب دے دیا ہے جو پہلی سورۃ سے پیدا ہوتا تھا۔میں بتا چکا ہوں کہ قولِ فصل کے متعلق یہ اعتراض پیدا ہوتا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ذریعہ قولِ فصل آ چکا اور لوگوں کی راہنمائی کے لئے آپؐایک کامل تعلیم لے آئے تو اس کے بعد کسی اور موعود کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔تم اللہ تعالیٰ کی صفات کی طرف دیکھوکہ اس کے جسم پر جو بیماریاں حملہ کرتی ہیں ان کے علاج کے سامان بھی اس نے دنیا میں پیداکئے ہیں۔جب بھی انسان بیمار ہوا اور اس میں کسی قسم کی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کے تَسْوِیَہ کے سامان پیدا کر دئیے۔جب جسمانی بیماری پیدا ہوئی تو جسم کی صحت کے سامان پیدا کئے۔جب روحانی بیماری پیدا ہوئی تو روحانی بیماریوں کے علاج پیدا کر دیئے۔پس جب اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایسا کرتا چلا آیا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آئندہ کجی تو پیدا ہو مگر وہ اس کو دور کرنے کے سامان پیدا نہ کرے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی وقت کجی تو پیدا ہوئی مگر خدا نے اس کو دور نہیں کیا تو اس سے خدا کا ناقص ہونا ثابت ہو گا اور اس کی صفات پر اعتراض واقع ہو گا۔اگر دنیا میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے تو بہرحال اس کو دور کرنا ضروری ہو گا کیونکہ