تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 34
سے زیادہ متمتع ہو سکیں۔چنانچہ جب آپؐدو سال کے ہوئے تو آپؐکی دایہ آپؐکی والدہ کے پاس گئیں اور اصرار کرکے انہیں واپس لے آئیں۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام زیر عنوان ولادۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورضاعتہ) مکہ کے لوگوںمیں دستو ر تھا کہ وہ اپنے بچے ارد گرد کے گاؤں میں رہنے والی عورتوں کے سپرد کر دیا کرتے تھے۔تاکہ کھلی ہوا میں رہنے کی وجہ سے ان کی صحت اچھی رہے اور زبان بھی صاف رہے۔کیونکہ بدوی لوگوں کی زبان شہریوں کی نسبت زیادہ فصیح ہوا کرتی ہے۔اور گاؤں کی عورتیں اس لئے شہر کے بچوں کو لے جاتی تھیں کہ ان بچوں کی پرورش کے لئے ان کے ماں باپ کافی رقم ان کو دیتے تھے جس سے ان کا گذارا بھی اچھا ہو جاتا تھا۔چنانچہ حلیمہ بھی اسی غرض سے مکہ میں آئی اور اس غرض کے لئے آئی کہ اگر کسی کا بچہ ملے تو اسے اپنے ساتھ لے جائے۔مگر وہ کہتی ہیں میں مکہ کے جس گھر میں بھی گئی لوگ میرے پھٹے پرانے کپڑوں اور پریشان بالوں کو دیکھ کر کہتے کہ ہم تجھے اپنا بچہ نہیں دے سکتے کیا ہم نے اپنا بچہ بھوکا مارنا ہے کہ اسے تیرے حوالے کر دیں۔اسی حالت میں مَیں سارا دن مکہ میں پھرتی رہی مگر مجھے کوئی بچہ نہ ملا۔ادھر یہ واقعہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سارا دن اپنا بچہ بعض دوسری عورتوں کو دینے کے لئے اصرار کرتی رہیں مگر کوئی عورت اس بچہ کو لینے کے لئے تیار نہ ہوتی۔وہ یہی کہتیں کہ تو ایک غریب عورت ہے ہم اس بچہ کو لے گئیں تو تُو نے ہمیں کیا انعام دینا ہے۔گویا مکہ میں ایک عورت کو سارا دن کوئی بچہ نہ ملا اور ایک عورت کو سارا دن اپنے بچہ کے لئے کوئی دایہ نہ ملی۔دایہ کو ہر گھر سے اس لئے ردّ کیا گیا کہ وہ ایک غریب عورت ہے اگر بچہ لے گئی تو وہ اس کی پوری طرح پرورش نہ کر سکے گی۔اور بچے کو اس لئے ردّ کیا گیا کہ اس کی ماں ایک غریب اور بیوہ عورت تھی وہ پالنے والی کو انعام کیا دے گی۔اس لئے سب عورتیں اسے کہتیں کہ ہم تیرے بچہ کو لے گئیں تو ہمیں تجھ سے کسی انعام کی امید نہیں ہو سکتی۔حلیمہ کہتی ہیں جب شام ہو گئی اور سورج غروب ہونے لگا تو میں شرمندہ اور حیران ہو گئی اور سوچنے لگی کہ سارا دن گذر گیا اور مجھے کسی نے غربت کی وجہ سے اپنا بچہ نہیں دیا کہ اتنے میں مجھے کسی نے بتایا کہ فلاں گھر میں ایک بچہ ہے جسے ابھی تک کوئی دایہ نہیں ملی۔تُو اس گھر میں جا اور اس بچے کو لے لے۔حلیمہ کہتی ہیں میں نے سمجھا کہ خالی ہاتھ واپس جانے میں جو شرمندگی ہے اس سے یہ بہتر ہے کہ میں اس بچہ کو ہی اپنے ساتھ لے جاؤں۔چنانچہ میں گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے آئی۔جب میں گھر پہنچی تو ایک عجیب نظارہ نظر آیا۔ہماری بکریوں کا دودھ بوجہ قحط سالی کے خشک ہو چکا تھا اور دیر سے ہمارے ہاں کوئی دودھ نہیں تھا لیکن جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھر پہنچی تو ہماری بکریوں کے تھَن دودھ سے بھر گئے۔وہ کہتی ہیں میں دل میں تو کڑھتی آئی تھی کہ محض اپنی ناک کے لئے اور