تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 33

آپؐکو کوئی پتہ نہیں کہ تورات میں کیا کیا احکام تھے۔یا بنی اسرائیل کے ساتھ کیا کیا واقعات گذرے۔یا موسٰی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا کلام کیا تھا۔آپؐان سب امور سے بے خبری کی حالت میں رات کو بستر پر سوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپؐپر ان تمام حالات کو منکشف کر دیتا ہے اور پھر وہ حالات ایسے صحیح ثابت ہوتے ہیں کہ آج وہ باتیں تو سچی ثابت ہورہی ہیں جو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائیں لیکن وہ باتیں غلط ثابت ہو رہی ہیں جو لوگوں نے بہت بڑی جدّوجہد اور سالہا سال کی محنت کے بعد معلوم کی تھیں اور تاریخی کتابوںمیں درج کی تھیں۔اب دیکھ لو اس بلاواسطہ ربوبیت کے نتیجہ میں جس طرح آپؐکہہ سکتے تھے کہ خدا علیم ہے اس طرح اور کون خدا کے علیم ہونے کی شہادت دے سکتا تھا بے شک لوگ بھی خدا تعالیٰ کو علیم تسلیم کرتے ہیں مگر اس لئے نہیںکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے علیم ہونے کا مشاہدہ کیاہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے ماں باپ یا استاد کہتے ہیں کہ خدا علیم ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو رات کو بغیر علم کے سوئے اور صبح کو آپؐکا سینہ ہر قسم کے علوم سے بھرا ہوا تھا۔آپؐجس طرح خدا تعالیٰ کے علیم ہونے کی صفت کا بے عیب ہونا ظاہر کر سکتے تھے دوسرے لوگ اس طرح کہاں ظاہر کر سکتے تھے۔پھر مثلاً رزق کو لے لو۔لوگ دیکھتے ہیں کہ انسان خود محنت کرتا، خود روزی کماتا اور خود اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے معاش کا سامان مہیا کرتا ہے۔ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی صفت رزاقیت بغیر توسط کے ظاہر نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس صفت کے متعلق محض سماعی ایمان رکھتے ہیں مشاہدہ کی برکات ان کو حاصل نہیں ہوتیں۔وہ بے شک رسمی طور پر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ رزاق ہے مگر ان کے دل اس صفت کے متعلق ہرقسم کے یقین سے خالی ہوتے ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کو بھی بغیر کسی توسط کے ظاہر کیا اور آپؐکو جب بھی رزق ملا بغیر محنت کے ملا۔آپؐجب بچے تھے اللہ تعالیٰ نے آپؐکی غیر معمولی محبت آپؐکے رشتہ داروں کے دلوں میں پیدا کر دی۔یہاں تک کہ آپؐکی تربیت کے لئے جو دایہ مقرر ہوئی وہ بھی آپؐسے بے انتہا محبت کرنے والی ثابت ہوئی۔چنانچہ تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حلیمہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ تھیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کیا کرتی تھیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے آپؐکو ان کے لئے رزق کا ذریعہ بنا دیا تھا۔آپؐکی دایہ کے خاندان کے لوگ سخت غربت کی حالت میں تھے مگر آپؐکے آنے پر خدا تعالیٰ نے ان کی غربت کو دور کر دیا اور اپنے فضل کے دروازے ان کےلئے کھول دئیے اس لئے آپؐسے ان کو بےانتہا محبت ہو گئی۔آنحضرتؐکی وجہ سے جو آپؐکی دایہ پر خدا کا فضل ہوا تھا اس وجہ سے وہ یہ چاہتی تھیں کہ زیادہ سے زیادہ عرصہ آنحضرتؐان کے گھر میں رہیں۔تا وہ برکات جو آپؐکی وجہ سے ان کے گھر پر نازل ہو رہی تھیں ان سے زیادہ