تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 35
سہیلیوں میں شرمندگی سے بچنے کے لئے میں اس بچے کو لائی ہوں ورنہ اس بچے کی ماں مجھے کیا دے سکتی ہے لیکن جب میں نے یہ دیکھا کہ ہماری بکریوں کے تَھن دودھ سے بھر گئے ہیں تو میں نے کہا یہ بچہ تو ہمارے لئے رزق لایا ہے۔چنانچہ اس دن سے ان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بیٹھ گئی اور پھر انہوں نے اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبت اور شفقت کے ساتھ آپؐکی پرورش کی۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام زیر عنوان ولادۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورضاعتہ) تو دیکھو وہ لوگ جو دوسروں کے ہاتھ سے روٹی کھاتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا رب سمجھتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ انہوں نے اس کی ربوبیت کا کوئی کرشمہ دیکھا ہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ لوگ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ رب ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی صفتِ ربوبیت کا اس وقت ظہور کیا جب آپؐسمجھتے بھی نہیں تھے کہ رب کیا ہوتا ہے۔اور پھر جب آپؐنے ہوش سنبھالا تو اس وقت دایہ نے آپؐکو بتایا کہ ہم نے تجھے نہیں کھلایا بلکہ تیری وجہ سے ہم نے کھایا ہے۔اب سوچو کہ رب کے جو معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ سکتے تھے وہ اور کون سمجھ سکتا تھا۔یقیناً اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو وہی صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے جو براہِ راست صفت ربوبیت کا نمونہ دیکھے۔وہ شخص جو واسطوں کے ذریعہ سے کسی صفت کا مشاہدہ کرتا ہے اس پر بھی اس صفت کا اثر ہوتا ہے۔مگر وہ اثر اور یہ اثر آپس میں بہت بڑا فرق رکھتے ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بعض دفعہ ہم کسی غریب کو خود پیسہ دے دیتے ہیں اور بعض دفعہ کسی اور کو پیسہ دے کر کہتے ہیں کہ یہ فلاں غریب کو دے دینا۔اب یہ لازمی بات ہے کہ پیسے تو دونوں صورتوں میں غریب کو ہی پہنچیں گے مگر براہِ راست پیسہ دینے سے ہماری جو محبت اس شخص کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے وہ مخفی صدقہ دینے سے پیدا نہیں ہو سکتی۔بے شک مخفی صدقہ دینے والے کو ثواب زیادہ مل جاتا ہے مگر جسے صدقہ ملتا ہے اس کے دل میں صدقہ دینے والی کی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر کوئی شخص براہِ راست کسی غریب کو صدقہ دیتا ہے تو خواہ ثواب اسے کم حاصل ہو مگر دوسرے شخص کے دل میں محبت کا جوش پیدا ہو جائے گا اور وہ اس کے لئے ضرور دعا کرے گا۔اسی طرح جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ماں باپ کے ہاتھ سے روٹی کھلائی ہے ان کو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا وہ مزہ نہیں آ سکتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی براہِ راست ربوبیت سے حاصل ہوتا تھا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زندہ کرنے والا ہے۔اس صفت کے متعلق بھی ہرشخص رسمی رنگ میں ایمان رکھتا ہے اور وہ کہہ دیتا ہے کہ ہاں مجھے ایمان ہے اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد لوگوں کو زندہ کرے گا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ کی یہ صفت آپؐکی زندگی میں ہی ظاہر ہوئی اور آپؐنے اس کی