تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 32
کہاں سمجھ سکتے تھے۔یامثلاً خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کو ہی لے لو لوگ دنیا میں پیدا ہوتے۔ماں باپ کے زیرِ سایہ رہ کر پرورش حاصل کرتے اور اساتذہ سے علوم حاصل کرتے ہیں انہیں یہی نظر آتا ہے کہ ماں باپ نے روٹی کھلائی۔ماں باپ نے کپڑے دیئے ماں باپ نے روپے خرچ کئے اور اساتذہ نے ہم کو پڑھا دیا۔وہ خدا تعالیٰ کو رب تو کہتے ہیں مگر اس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی محض سنی سنائی بات ہوتی ہے۔وہ حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے مولوی تو کہتے ہیں خدا رزق دیتا ہے۔خدا روپیہ دیتا ہے۔خدا علم دیتا ہے مگر ہمیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں کھلایا اللہ تعالیٰ نے نہیں کھلایا۔ہمارے ماں باپ نے ہمیں پڑھایا اللہ تعالیٰ نے نہیں پڑھایا۔لیکن چونکہ لوگ کہتے ہیں کہ اصل رب خدا ہے اس لئے وہ بھی خدا تعالیٰ کو رب کہہ دیتے ہیں ان کے دل اس بات پر یقین نہیں رکھتے اور ان کی آنکھیں خدا تعالیٰ کی اس صفت کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں مگر فرماتا ہے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى اور لوگوں کے سامنے تو خدا تعالیٰ اپنی ادنیٰ ربوبیت ظاہر کر رہا تھا مگر تیرے لئے اس نے اپنی اعلیٰ ربوبیت کو ظاہر کیا۔یعنی خدا تعالیٰ کی ربوبیت د۲و قسم کی ہوتی ہے ایک ادنیٰ ربوبیت جو لوگوں کے توسط سے ظاہر ہوتی ہے اور ایک اعلیٰ ربوبیت جو توسط کے بغیر ظاہر ہوتی ہے۔پس فرماتا ہے تو ان اعتراضات کو دور کر جو ہماری ربوبیت کی صفت پر کئے جاتے ہیں۔لوگوں کو ہم نے روٹی کھلائی مگر ان کے ماں باپ کے ذریعہ۔لوگوں کو ہم نے علم سکھایا مگر ان کے استادوں کے ذریعہ۔لیکن تجھے ہم نے براہِ راست اپنی تربیت میں رکھا۔تجھے اپنے پاس سے رزق دیا اور خود علم سکھایا اور اپنی تمام صفات کا بلا واسطہ ظہور تیرے لئے کیا۔اب تیرا فرض ہے کہ تو صفاتِ الٰہیہ پر لوگوں کے اعتراضات کو دور کرے۔اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کی صفات کا بلاواسطہ ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میںہر قسم کے علوم سے نوازا اور اپنی صفات کا براہِ راست نمونہ آپؐکو دکھایا اس کا صرف اس بات سے ہی اندازاہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ تو دنیوی استادوں سے علوم سیکھتے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خود براہِ راست ہر قسم کا علم سکھایا۔پھر لوگوں کو علم کے حصول کے لئے بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی مشقت برداشت نہیں کرنی پڑی۔لوگ تورات پڑھنا چاہتے ہیں تو کبھی عبرانی زبان سیکھتے ہیں کبھی یونانی زبان سیکھتے ہیں کبھی پرانے صُحف کا مطالعہ کرتے ہیں اور کئی سال ان کے اسی جدوجہد اور تگ و دومیں صرف ہو جاتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کو جو علم حاصل ہوتا ہے وہ ناقص ہوتا ہے اور بسا اوقات بعد کی تحقیق اس کا غلط ہونا ثابت کر دیتی ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے ہیں۔