تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 31

صفات الٰہیہ کے ظاہری اشتراک سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى میں اسم سے مراد خدا تعالیٰ کے سب اسماء دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اسم سے مراد ہر اسم یعنی اسماء ہیں اور مراد یہ ہے تیرا رب جو اعلیٰ ہے اس کے نام کی تسبیح کر یعنی سب سے زیادہ احسان تجھ پر تیرے رب کا ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی ربوبیت نہیں کر سکتا۔جب اس نے تجھ سے وہ سلوک کیا ہے جو اور کسی سے نہیں کیا تو اب تیرابھی فرض ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی ذات پر کسی قسم کا اعتراض کرے تو اس کے اعتراض کا ازالہ کر۔یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا تیرے ساتھ وہ معاملہ رہا ہے جس کی دنیا میں اور کہیں نظیر نہیں ملتی اس لئے تو ہی صحیح طور پر لوگوں کے شکوک کا ازالہ کر سکتا ہے کیونکہ جس نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہو وہی اس کی صفات پر لوگوں کے اعتراضات کو ردّ کر سکتا ہے جس نے اپنی ذات میں خدائی صفات کا مشاہدہ ہی نہ کیا ہو وہ کسی کے اعتراض کا کیا ازالہ کر سکتا ہے۔پس فرماتا ہے ربِّ اعلیٰ نے تیری خود ربوبیت کی ہے اور تیرے ساتھ وہ سلوک کیا ہے جو دنیا میں اور کسی سے نہیں کیا اس لئے اب یہ تیرا کام ہے کہ صفاتِ الٰہیہ میں سے ہر صفت پر جو اعتراضات لوگوںکی طرف سے وارد ہوتے ہیں ان کو دور کر اور ان کو بتا کہ خدائی صفات ہر قسم کے نقائص سے منزّہ ہیں۔واقعات پر غور کر کے دیکھ لو خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسا سلوک کیا ہے ویسا سلوک دنیا میں اور کسی سے نہیں ہوا۔اس لئے خدا تعالیٰ کی صفات کو جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سمجھ سکتے تھے کوئی اور شخص نہیں سمجھ سکتا تھا۔مثلاً خدا تعالیٰ کی مالکیّت کی صفت لے لو۔خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے لئے جس رنگ میں اپنی مالکیت کا اظہار کیا اس رنگ میں ابوجہل کے لئے نہیں کیا۔ابو جہل تو صرف خیالی طور پر سمجھتا تھا کہ چونکہ لوگ کہتے ہیں خدا مالک ہے اس لئے میں بھی سمجھتا ہوں کہ وہ مالک ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خدا تعالیٰ نے عملًا مالک بن کر دکھا دیا کہ مالک کون ہوتا ہے؟ وہی جس کے قبضہ و اختیار میں تمام چیزیں ہوں اور وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے واپس لے لے۔خدا تعالیٰ نے بھی عربوں سے حکو مت لے لی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دی۔اب بھلا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا خدا تعالیٰ کی اس صفت کو اور کون صحیح طور پرسمجھ سکتا تھا۔دوسرے لوگ بھی خدا تعالیٰ کو مالک سمجھتے ہیں مگر اس طرح کہ زید کہتا ہے خدا مالک ہے، بکرکہتا ہے خدا مالک ہے، خالد کہتا ہے خدا مالک ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے خود مالک بن کر دکھا دیا اور اپنی اس صفت کا آپؐپر بلاواسطہ اظہار کیا اس لئے آپؐاس صفت کو جس رنگ میں سمجھ سکتے تھے دوسرے لوگ