تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 337

درمیان میں وہ لٹک نہیں سکتا اور نہ درمیانی انسان کبھی کامیاب ہو سکتا ہے۔کامیابی یا عزت دو ہی طرح حاصل ہو سکتی ہے یا تو انسان دنیا کا ہو رہے، اگر خدا بھول گیا ہے تو دنیوی لحاظ سے محنت کرے، کوشش کرے، علم حاصل کرے، قربانی کرے اور اس طرح دنیا میں عزت حاصل کرے۔اور یا پھر یہ طریق ہے کہ وہ خدا کا ہو جائے اور دنیا کی محبت اپنے دل سے بالکل مٹا دے اور دین کے لئے جدوجہدمیں لگ جائے۔درمیانی راستہ اور کوئی نہیں۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ بغیر محنت دینی یا محنت دنیوی کے کوئی انسان عزت حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے زمانہ میں تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔اب عزت پانے والے یا ہمارے مرید ہوں گے یا ہمارے مخالف ہوں گے۔چنانچہ فرماتے تھے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دیکھ لو۔وہ کوئی بڑے مولوی نہیں۔ان جیسے ہزاروں مولوی پنجاب اور ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ان کو اگر اعزاز حاصل ہے تو محض ہماری مخالفت کی وجہ سے۔وہ لوگ خواہ اس امر کا اقرار کریں یا نہ ،مگر واقعہ یہی ہے کہ آج ہماری مخالفت میں عزت ہے یا ہماری تائید میں گویا اصل مرکزی وجود ہمارا ہی ہے اور مخالفین کو بھی اگر عزت حاصل ہوتی ہے تو ہماری وجہ سے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے شہادت کے طور پر جن چیزوں کو پیش کیا ہے۔ان کا وجود اس بات کا ایک اہم ثبوت ہے کہ ہم نے انسان کو محنت ومشقت سے کام لینے والا بنایا ہے۔یہ مکہ جس میں تو رہتا ہے جس میں تجھے حلال سمجھا جانے والا ہے۔جس میں تجھے ہر تیر کا نشانہ بنایا جانے والا ہے۔جس میں تیری ایذا دہی کی ہر ممکن کوشش ہونے والی ہے اور جس میں تیری جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں سمجھی جائے گی۔یہ ہمارے اس دعویٰ کا ثبوت ہے اس لئے کہ تجھے مارنے اور تباہ کرنے کی وہ جتنی بھی کوشش کریں گے ان میں انہیں ناکامی ونامرادی حاصل ہو گی اور انہیں آخر اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ان کی کوشش اور کارنامے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ان کی یہ ناکامی اپنی ذات میں اس بات کا ایک ثبوت ہو گی کہ انسان کو ہم نے ایسا ہی بنایا ہے کہ سچی محنت کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ان کی مخالفتیں بالکل سطحی ہیں۔اور ان کی کوششیں بالکل عبث۔کیونکہ وہ حقیقی قربانی سے کام نہیں لے رہے وہ سمجھتے ہیں جو بڑا بننے والا ہو اس کو مار دینا چاہیے۔حالانکہ مارنے سے کیا بنتا ہے۔بڑا انسان تب بنتا ہے جب وہ قربانی سے کام لے۔مگر تمہاری یہ حالت ہے تم یتیموں کو پوچھتے نہیں، تم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے، تم اپنے مالوں کو قومی اور ملی مفاد کے لئے قربان نہیں کرتے، تمہیں جائیدادیں ملتی ہیں تو تم انہیں تباہ برباد کر دیتے ہو۔گویا جس قدر بنیادی کام ہیں اور جو محنت و مشقت اور قربانی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ان کو تو تم سرانجام نہیں