تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 338
دیتے۔ا ور جو شخص ان کاموں کو کرنے لگے اسے مارنے کے لئے دوڑ پڑتے ہو اس سے کیا بن سکتا ہے۔تم یاد رکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو خواہ تم مارنے کی کتنی بھی کوشش کرو وہ کبھی نہیں مرے گا۔بلکہ تم ہی مرو گے۔اور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام تر عزت قربانی میں رکھی ہے۔جب کوئی شخص اپنے جگر کا خون کر کے آگے بڑھنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت دے دیتا ہے۔لیکن وہ جو سہل ترین راستہ پر چلنے کی کوشش کریں جو قربانیوں میں حصہ لینے سے دل چرائیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس فرمایا تم اپنا روشن مستقبل کس طرح مانتے ہو جب کہ تم میں کبد والی حالت ہی نہیں۔کبد والی حالت تو تقاضا کرتی ہے کہ انسان یاخدا کا ہو کر رہے یا دنیا کا۔مگر تم نہ خدا کے ہو نہ دنیا کے۔نہ تم میں مذہب ہے نہ قومی اخلاق ہیں۔اور جب حالت یہ ہے تو تمہارا مستقبل کس طرح روشن ہوسکتا ہے۔اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے انسان کو وسط سماء میں پیدا کیا ہے۔سماء سے مراد وہ بلند اخلاق ہوں گے جو انسان کے روحانی ارتقاء کے لئے ضروری ہیں اور وسط کے معنی تو ہر شخص جانتا ہی ہے کہ درمیان کے ہوتے ہیں پس لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ کے معنے یہ ہوئے کہ کامل انسان وہی ہوتا ہے اور بااخلاق وہی کہلا سکتا ہے جس کے اندر اعتدال موجود ہو اور وسطی اخلاق اس کے اندر پائے جائیں۔گویا اوّل اس کا سماء سے تعلق ہو اور پھر اس کے اخلاق وسطی رنگ کے ہوں وہ ایک طرف جھکا ہوا نہ ہو۔وسط سماء میں پیدا کرنے کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ جب تک اس کا شرعی اور قدرتی قواعد سے تعلق نہ ہو گا کامیاب نہیں ہو سکتا۔دونوں کا پورا کرنا ضروری ہے۔یعنی جب تک اس میں اعتدال نہ ہو گا کامیاب نہیں ہو سکے گا۔اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌۘ۰۰۶ کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کسی کا زور نہ چلے گا۔تفسیر۔یہاں وہ انسان مراد نہیں جسے خدا تعالیٰ نے کبد والی حالت میں پیدا کیا ہے بلکہ یہاں انسان سے مراد اس کا ناقص وجود ہے۔فرماتا ہے کیا گمان کرتا ہے وہ شخص جو ظاہر میں تو انسان کہلاتا ہے مگر حقیقت میں انسانیت سے بہت دور اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں کھڑا ہے کہ خواہ وہ کبد کے مقام کو چھوڑ بیٹھے اور شرعی اور دنیوی دونوں قواعد سے بے نیاز ہو کرکام کرے پھر بھی اس پر کوئی تنگی نہیں آئے گی یہ بالکل غلط ہے۔