تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 336
اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کیسی تربیت یافتہ کیسی بااخلاق کیسی سمجھ دار اور کیسی قربانی کرنے والی اولاد اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو عطا کی تھی اور اس میں علم سیکھنے کا مادہ کس قدر انتہائی طور پر پایا جاتا تھا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کامیابی کے اصول کے جتنے راستے دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب اس باپ اور اس کے بیٹوں کو حاصل ہیں۔اس لئے تمہیں اس بات میں کبھی شبہ ہی نہیں کرنا چاہیے کہ تمہاری شکست اور ان لوگوں کی فتح بالکل قطعی اور یقینی ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍؕ۰۰۵ ہم نے یقیناً انسان کو رہینِ محنت بنایا ہے۔حلّ لُغات۔اَلْکَبَدُ۔اَلْکَبَدُ: اَلشِّدَّۃُ والْمَشَقَّۃُ یعنی کبد سختی اور مشقت کو کہتے ہیں۔اسی طرح کَبَدٌ: وَسْطُ الرَّمْلِ یعنی ٹیلے کے درمیانی حصہ کو بھی کہتے ہیں اور کَبَدٌ کے معنے وَسْطُ السَّمَاءِ کے بھی ہیں۔یعنی آسمان کے درمیان کو بھی کبد کہتے ہیں۔اسی طرح کَبَدَ الرَّجُلُ کَبَدًا کے معنے ہوتے ہیں۔اَ لِمَ مِنْ وَجَعِ کَبَدِہٖ وہ درد جگر میں مبتلا ہو گیا (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے انسان کو کبد میں بنایا ہے محاورہ کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ ہمیشہ تکلیف اور مشقت سے کام کرتا ہے۔اسی طرح اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ ہم نے انسان کو وسط سماء میں بنایا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ کے دومعنے پہلے معنوں کے رو سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے ہم نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ محنت کرنے پر مجبور ہے۔یہ گویا ایک لازمی بات ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔قدرت کا جو بھی کارخانہ ہے یا ہماری طرف سے جو قوتیں بھی بنی نوع انسان کو دی گئی ہیں۔وہ لازمی طور پر اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ ہم نے انسان کو محنت و کوشش کے لئے پیدا کیا ہے۔میرے نزدیک یہ دوسرا جوابِ قسم ہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی اور ان کی راستبازی کا ثبوت صرف وہی نہیں جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔بلکہ اس کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ ہم نے انسان کو کبد میں پید اکیا ہے یعنی ہم نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ محنت کرتا ہے اور محنت کرنے پر مجبور ہے یا وہ خدا کا ہو کر رہے گا یا دنیا کا۔