تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 332
مقابل کی خوبیوں کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے۔کہ وہ اس باپ اور اس کی اولاد میں پائی جاتی ہیں۔ان میں اکرام یتیم بھی پایا جاتا ہے۔ان میں مساکین کی پرورش کا جذبہ بھی موجود ہے۔وہ اسراف بھی نہیں کرتے۔اور ضرورت پر اپنے مالوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرانے سے دریغ بھی نہیں کرتے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرائے کہ یہ کہیں میرا امتحان نہ ہو۔تو اسی حالت میں آپ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے اور ان سے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے۔حضرت خدیجہ نے یہ سنتے ہی بلاتکلف بغیر سوچنے اور بغیر کسی فکر و تردّد سے کام لینے کے نہایت اطمینان کے ساتھ کہا کَلَّا وَاللہِ مَا یُـخْزِیْکَ اللہُ اَبَداً اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِـمَ وَتَـحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْـحَقِّ (الـصحـیـح الـبـخـاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ) خدا کی قسم۔خدا آپ کو کبھی ذلیل نہیں کر سکتا۔کیونکہ آپ وہ ہیں جو صلہ رحمی کرتے ہیں۔آپ وہ ہیں جو سچائی سے کام لیتے ہیں۔آپ وہ ہیں جو لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں۔آپ وہ ہیں جنہوں نے تمام معدوم اخلاق کو اپنے اندر پیدا کیا ہوا ہے۔آپ وہ ہیں جو مہمان نوازی کرتے ہیں۔اور آپ وہ ہیں جو حق کی راہ میں لوگوں کے مددگار بنتے ہیں۔آپ جیسے انسان کو اللہ تعالیٰ کس طرح ضائع کر سکتا ہے۔اب دیکھ لو حضرت خدیجہ نے جو باتیں بیان فرمائی ہیں ان سب میں وہ اخلاق آ گئے جو کفار کے اندر موجود نہیں تھے۔انہوں نے فرمایا کہ تَقْرِی الضَّیْفَ آپ مہمان نوازی کرتے ہیں۔اس میں یہ بات آ گئی۔آپ کے اندر مال کی ایسی محبت نہیں تھی کہ آپ اسے بند کر کے بیٹھ رہتے۔بلکہ ہر جائز ضرورت پر آپ اسے خرچ کر دیتے تھے۔پھر انہوں نے ایک خوبی ان الفاظ میں بیان فرمائی کہ تَـحْمِلُ الْکَلَّ۔آپ لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں۔اس میں یتامیٰ اور مساکین بھی شامل ہیں۔کیونکہ جو شخص کسی کام کے قابل نہ ہو وہ دوسروں کے لئے ایک بوجھ ہوتا ہے۔یتیم کسی کام کے قابل نہیں ہوتا بوجہ اپنی کم سنی کے اور مسکین بھی کسی کام کے قابل نہیں ہوتا بوجہ فقدان روپیہ کے بے شک اس میں اور باتیں بھی شامل ہیں۔مگر اکرام یتیم اور مساکین پروری دونوں بہرحال تَـحْمِلُ الْکَلَّمیں شامل ہیں۔پھر جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم لوگوں کی ضروریات کے لئے روپیہ خرچ کیا کرتے تھے تو یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص روپیہ خرچ کرنے والا ہو وہ کنجوس نہیں ہو سکتا پس بخل کی بھی نفی آ گئی۔پھر اسراف بھی جاتا رہا۔کیونکہ حضرت خدیجہؓ فرماتی ہیں تَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وہ اخلاق جو قوم میں سے مٹ چکے ہیں۔ان کو دوبارہ اپنی قوم میں واپس لا رہے ہیں۔گویا وہ سب اخلاق جن کو آپ کی قوم کھو چکی تھی۔وہ آپ کے ذریعہ دوبارہ حاصل ہو رہے ہیں۔