تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 333
اس سے یہ نتیجہ خودبخود نکل آیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم مسرف نہیں تھے۔پس حضرت خدیجہؓ کی گواہی اپنی ذات میں اس بات کا ایک قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اندر وہ سب اوصاف و کمالات پائے جاتے تھے جو ایک ترقی کرنے والے وجود کے اندر پائے جانے ضروری ہیں۔وَالِد کے بعد وَلَد کا ذکر آتا ہے ان کے اخلاق اور ان کی قربانیوں کو بھی جب دیکھا جاتا ہے تو حیرت آتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لانے کے بعد انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وطن کی قربانی، یتامٰی کی خبر گیری، مساکین کی پرورش، دینی ضروریات کے لئے روپیہ صرف کرنا یہ سب خوبیاں ان کے اندر اپنی پوری شان کے ساتھ موجود تھیں۔چنانچہ ان کے اخلاق اور ان کی قربانیوں کا یہ ایک زندہ ثبوت موجود ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے وطنوں کو قربان کر دیا۔اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیا اور ہر قسم کی موت کو اپنے اوپر خوشی سے وارد کر لیا۔غرض اس مقام پر اللہ تعالیٰ وَالِد اور مَا وَلَد دونوں پیش کرتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ ان اوصاف کی موجودگی میں تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ لوگ نہیں جیتیں گے پیشگوئیوں کے متعلق تو تم یہ کہہ سکتے ہو کہ جب وہ پوری ہوں گی تو دیکھا جائے گا۔مگر یہ چیز تو تمہارے سامنے موجود ہے۔تم ہر وقت دیکھ سکتے ہو کہ تم میں کیسے اخلاق پائے جاتے ہیں۔اور مسلمانوں میں کس قسم کے اخلاق پائے جاتے ہیں۔تمہارے اخلاق اس بات کا ثبوت ہیں کہ تم لوگ ہارنے والے ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کی جماعت کے اخلاق اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ لوگ جیتنے والے ہیں۔بطور تنزل اس آیت کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وَوَالِدٍ وَّ مَاوَلَدَ سے آدم اور اس کی تمام اولاد مراد لی جائے۔اور آیت کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ ہم محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں تمام بنی نوع انسان کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔تم دیکھ لو کہ نوعِ انسانی میں سے کچھ لوگ عزت پانے والے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ذلت پانے والے ہوتے ہیں۔عزت پانے والوں میں جو خوبیاں موجود ہوتی ہیں وہ سب کی سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کے ساتھیوں میں پائی جاتی ہیں۔اور ذلت پانے والوں میں جو برائیاں موجود ہوتی ہیں وہ سب کی سب تم میں پائی جاتی ہیں۔اب تم خود ہی سوچ سکتے ہو کہ ذلت کس کے حصہ میں آئے گی اور فتح کس کے حصہ میں۔اس صورت میں وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ سے مراد دنیا کے تمام باپ اور دنیا کی تمام اولادیں ہوں گی۔یعنی تم اس دنیا پر غور کرو۔لوگوں کے حالات پر تدبر کرو۔ترقی و تنزل کے وجوہ پر نظر غائر ڈالو۔تمہیں معلوم ہو گا کہ بعض خرابیاں باپ سے پیدا ہوتی ہیں اور بعض خرابیاں اولاد سے پیدا ہوتی ہیں۔لیکن