تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 317

بحر محیط والے لکھتے ہیں کہ آپ کے مقام کی قسم کھانے کے بعد آپ کی اور آپ کی امت کی قسم اظہار شرف کے لئے کھائی گئی ہے٭ میں قسم کے بارے میںبار بار بتا چکا ہوں کہ قسم سے مراد محض شہادت ہوتی ہے اور غرض اس کی یہ ہوتی ہے کہ ان چیزوں کو ان مخصوص حالات میں یا عام حالات میں ہم بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔بعض دفعہ عام حالات مراد ہوتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے حالات سے جو سبق ملتا ہے اسے ہم بطور شہادت پیش کرتے ہیں کہ ہمارا دعویٰ صحیح ہے لیکن کبھی ان چیزوں کے مخصوص حالات مراد ہوتے ہیں۔جیسے یہاں فرمایا کہ ہم اس مکہ کو بطور شہادت تو پیش کرتے ہیں مگر ایسے حال میں کہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ یہ کہنا کہ قسم اکرام کے لئے کھائی گئی ہے یہ بالکل عبث بات ہے۔دنیا میں کبھی کوئی شخص عزت کے لئے قسم نہیں کھاتا۔کیا یہ بھی کوئی کہا کرتا ہے کہ چونکہ میرے دل میں تمہاری عزت ہے اس لئے میں تمہاری قسم کھاتا ہوں۔یہ نہ عربی کا محاورہ ہے اور نہ کسی اور زبان کا۔صرف اس لئے کہ مفسرین کی سمجھ میں قسم کی حقیقت نہیں آئی۔انہوں نے یہ کہہ دیا کہ قسم اکرام کے لئے کھائی گئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں جس کا بھی ذکر آئے گا خواہ وہ ذکر کسی شہادت کے لئے آئے یا کسی کی نیکیوں کی یادگار کے طور پر آئے۔اس کا اکرام ہو جائے گا مگر یہ ایک ضمنی بات ہے قسم اکرام کے لئے نہیں کھائی جاتی۔ہاں جب قسم کھائی جاتی ہے تو اگر وہ اچھی بات کے لئے ہو تو اس چیز کا اکرام بھی ہو جاتا ہے۔مگر مقصد اکرام نہیں ہوتا۔اکرام اس کا ایک طبعی نتیجہ ہوتا ہے۔وَوَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ کا صحیح مفہوم میرے نزدیک وَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ کے معنی (اوّل) حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے ہیں۔قرآن کریم سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ کا تعلق خصوصیت کے ساتھ حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے ساتھ ہے۔اور جب ایک چیز کو بغیر تعیین کے بیان کیا گیا ہو تو لازماً سب سے مقدم حق انہی وجودوں کا ہے جن کا تعلق اس مضمون سے ہو جو وہاں بیان ہو رہا ہو۔چونکہ وَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ سے پہلے ذکر مکہ مکرمہ کا ہے۔اس لئے لازمًا ہمیں ایسے ہی وَالِد اور مَوْلُوْد کی تلاش کرنی ہوگی جن کا مکہ سے خاص تعلق ہو۔اب ہمیں خود قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکہ میں لا کر بسایا اور خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اسے ایک شہر بنادے۔یہاں دور دور سے لوگ کھچے چلے آئیں۔ان کو رزق میسر آئے۔پھر یہ شہر امن والا ہو اور خدا تعالیٰ کا ذکر کرنےو الے اور اس کے نام پر اپنی زندگیاں قربان کرنے والے اس شہر میں پیدا ہوں۔یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام