تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 318
نے کی اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر کی۔پھر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے جوان ہونے سے پہلے جب وہ ابھی بچے ہی تھے ان کو مکہ مکرمہ میں لا کر چھوڑ دیا۔اور ایسی حالت میں چھوڑا جبکہ وہاں کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔محض خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے انہوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک بے آب وگیاہ وادی میں لا کر بسا دیا۔پس اگر کوئی وَالِد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانۂ بعثت سے پہلے کا مکہ سے تعلق رکھنے والوںمیں سے لوگوں کے ذہن میں آ سکتا ہے تو وہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ بعثت سے پہلے اگر کسی ولد کی طرف انسانی ذہن منتقل ہو سکتا ہے تو وہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں۔یہ ایک ایسا کھلا اور بیّن امر ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کا منکر ہو تو وہ بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اگر کوئی باپ اور بیٹا مکہ مکرمہ سے خاص طور پر تعلق رکھتے تھے تو وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام ہی تھے اور جب یہ ایسی نمایاں بات ہے تو جس باپ اور بیٹے کا یہاں ذکر ہے ان کی تعیین کرنے میں ہمارے لئے کیا مشکل ہے۔جب بغیر کسی تعیین کے ایک لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے دو ہی مفہوم ہوتے ہیں یا تو وہ کلّی طور پر عام ہوتا ہے اور یا اتنا نمایاں ہوتا ہے کہ اس کے لئے کسی تعیین کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔مثلاً جب ہم دن کا لفظ استعمال کریں گے تو اس سے یا تو ہر دن مراد ہو گا اور یا ایسا دن مرا دہو گا جو ہماری زندگیوں پر ایسا نمایاں اثر رکھتا ہو کہ خود بخود انسانی ذہن اس دن کی طرف چلا جاتا ہو۔ہر فصیح زبان میں یہی طریق رائج ہے کہ جب نکرہ استعمال کیا جائے یا تو اس سے مراد وہ تمام افراد ہوں گے جو اس میں آ سکتے ہوں اور یا ان افراد میں سے وہ خاص وجود جو اتنا خاص ہو کہ اس کے لئے کسی تعیین کی ضرورت نہ ہو۔اس کے لئے نکرہ آئے گا۔اس کے خلاف کوئی اور معنی کرنے کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتے۔ہمارے ملک کی عورتیں تک جب اپنی زندگی کے خاص دن کا ذکر کریں تو بغیر تعیین کے کہہ دیتی ہیں۔او دن نہیں بھلدا۔یعنی وہ دن نہیں بھولتا۔اور مراد یہی ہوتی ہے کہ وہ دن میری زندگی میں اتنا اہم ہے کہ میرے سب جاننے والے صرف اشارہ سے اسے سمجھ سکتے ہیں۔پس میرے نزدیک وَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ کے یہ معنی کرنے کے اس سے صلحاء اور ان کی اولاد مراد ہے۔یا نوح اور ان کی اولاد مراد ہے۔یہ سب عقل کے خلاف معنے ہیں۔اور ایک نکرہ کا وجود ان کی برداشت نہیں کر سکتا۔لیکن جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کا تعلق ہے (میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ساری اولاد مراد نہیں لیتا۔بلکہ مَاوَلَدَ سے صرف حضرت اسمٰعیل علیہ السلام مراد لیتا ہوں) اس حد تک کوئی شخص اس حقیقت سے