تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 303

عثمان نے یہ سن کر صَدَقْتَ کے لفظ کہے یعنی تو نے سچ کہا ہے۔لبید جو اس وقت عرب کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے تھے۔ایک نوجوان سے اپنے کلام کی تصدیق سن کر آگ بگولہ ہو گئے اور کہا کہ کیا لبید کو ایک بچہ سے اپنے شعر کی تصدیق کروانے کی ضرورت ہے۔مکہ والو تمہارے اخلاق کو کیا ہو گیا۔اس پر لوگ غصہ سے عثمان کی طرف لپکے اور انہیں بولنے سے سختی سے منع کیا۔اس کے بعد لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا وَ کُلُّ نَعِیْمٍ لَا مَـحَالَۃَ زَائِلُ یعنی ہر نعمت ضرور زائل ہو جائے گی۔عثمان نے کہا کَذَبْتَ نَعِیْمُ الْـجَنَّۃِ لَا یَزُوْلُ یعنی تو غلط کہتا ہے۔جنت کی نعمتیں زائل نہ ہوں گی۔اس پر تو لبید سخت غصہ میں آ گئے اور کہا کہ اب میں شعر نہیں پڑھتا۔اس پر نوجوان عثمان کی طرف لپکے۔ایک شخص نے شدت غیظ سے ایک گھونسا تان کر عثمان کی آنکھ میں مارا کہ ڈھیلے کا پانی بہہ گیا اور آپ کانے ہو گئے۔وہ رئیس جس نے پناہ دی تھی اٹھا اور کہا کہ بےوقوف تو نے کیا کیا کہ اپنی آنکھ ضائع کروا لی۔عثمان نے کہا کہ تو اپنی پناہ گھر رکھ۔تو کہتا ہے کہ میں نے ایک آنکھ ضائع کر دی۔میری دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں جانے کو بے تاب ہے(اسد الغابۃ زیر عنوان عثـمان بن مظعون)۔اب دیکھو کس طرح مکہ میں دوستیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔اور اسلام کے جرم میں کوئی دوست بھی کسی مسلمان کے کام نہ آیا۔بلکہ وہ سارے رشتہ دار، دوست اور قریبی تعلقات رکھنے والے جن سے انسان کو ہمیشہ مہرو وفا کی امید ہوتی ہے جن سے محبت اور پیار کی امید ہوتی ہے۔جن سے دکھ اور مصیبت کی گھڑیوں میں حسن سلوک اور ہمدردی کی امید ہوتی ہے۔انہی لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اسلام کی مخالفت میں اپنے عزیزوں پر تیر چلائے۔یہاں تک کہ بعض جگہ خاوندوں نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا۔اور بیویاں اپنے خاوندوں سے الگ ہو گئیں۔ماں باپ نے اپنے بچوں سے قطع تعلق کر لیا۔اور بچوں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیا۔پھر یہ نہیں کہ صرف ایک رنگ کا عذاب ان کو دیا گیا ہو۔بلکہ ہر نوعیت اور ہرقسم کے مظالم ان پر توڑے گئے۔پتھروں پر ان کو گھسیٹا گیا۔جلتی ہوئی ریت پر ان کو لٹایا گیا۔مکہ کی گلیوں میں جہاں بڑے بڑے کھردرے اور نوک دار پتھر ہوتے تھے۔ان کی ٹانگوں میں رسیاں باندھ کر اس طرح گھسیٹا جاتا جیسے کسی مردہ جانور کو گھسیٹا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ان کا تمام جسم لہولہان ہو جاتا۔پھر بسا اوقات ان کو زد وکوب کیاجاتا۔ان کے سینہ پر بڑے بڑے وزنی پتھر رکھ کر انہیں مجبور کیا جاتا کہ وہ توحید سے منحرف ہو جائیں۔کئی لوگ ایسے تھے جن کو نیزے مار مار کر ہلاک کیا گیا۔یہاں تک کہ بعض مسلمان عورتوں کی شرمگاہوںمیں انہوں نے نیزے مار کر ان کو ہلاک کیا۔ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئیں انہیں گندی سے گندی اور غلیظ سے غلیظ گالیاں