تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 302
لیا کرتے ہیں اور چلنے والے تیروں کے درمیان خود آ کر کھڑے ہو جایا کرتے ہیں۔یہ تو ماں باپ کے سلوک کا ایک نظارہ تھا۔اب چچا کے سلوک کا ایک نظارہ دیکھ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ایک چچا ابو لہب تھا۔اور بھی آپ کے بعض چچا تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ آپ کی مشکلات میں آپ کا ساتھ دیتے وہ خود دوسروں کو انگیخت کیا کرتے۔اور ان کورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکساتے رہتے تھے۔اور تیر تو الگ رہے یہی تیر کیا کم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی دو بیٹیاں رقیہ اور ام کلثوم ؓ آپ کے چچا ابولہب کے دو بیٹوں سے بیاہی ہوئی تھیں۔دعویٰ نبوت کے بعد اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے اپنے بیٹوں کو بلایا اور ان سے کہا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو اپنی بیویوں کو طلاق دے دو۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دے دی(الاصابۃ فی تـمییـز الصحابۃ الـجزء الرابع صفحہ ۴۸۹ ،۴۹۰ زیر عنوان ام کلثوم)۔گویا نازک سے نازک جذبات کو توڑنے کی بھی آپ کے رشتہ داروں نے کوئی پروا نہ کی۔وہ بھی ایک چچا ہی تھا جس نے آپ کو پالا اور آپ کی پرورش کی اور وہ بھی ایک چچا ہی تھا جس نے آپ کا مقابلہ کیا اور آپ کو شدید سے شدید دکھ دیا۔یہاں تک کہ آپ کی دو۲ لڑکیوں کو بلاوجہ طلاق دلا دی۔پھر دوست ہوتے ہیں اور ان میں بڑی گہری دوستی ہوتی ہے مگر جس نے اسلام قبول کر لیا اس کے تمام دوست اس سے بچھڑ گئے۔عرب لوگ دوستیوں کو بہت نباہنے والے تھے اور وہ ضرورت پر ایک دوسرے کے لئے جانیں بھی قربان کر دیا کرتے تھے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے خلاف اتنا بغض مکہ والوں کے دلوں میں پیدا ہوگیا تھا کہ انہوں نے اپنی تمام دوستیوں کو قطع کر کے رکھ دیا اور بڑے بڑے گہرے دوست ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔عثمان بن مظعون مکہ کے ایک رئیس کے لڑکے تھے۔اسلام لانے پر طرح طرح کے مظالم ان پر ہوئے۔آخر ہجرت کے ارادہ سے گھر سے نکلے۔راستہ میں ا ن کے والد کا ایک گہرا دوست ملا۔اس نے پوچھا کہاں جا رہے ہو۔عثمان نے کہا مکہ والوں کے ظلم سے تنگ آ کر ہجرت کر رہا ہوں اس رئیس کی آنکھوں میں یہ سن کر آنسو آ گئے۔عثمان کو گلے لگا لیا اور کہا کہ میرے دوست کا بیٹا مکہ چھوڑے یہ نہیں ہو سکتا۔تو آج سے میری پناہ میں ہے۔چنانچہ واپس آ کر خانۂ کعبہ میں اپنی حفاظت کا اعلان کردیا۔مکہ والے ایک دوسرے کی پناہ کا بڑا لحاظ کرتے تھے لوگوں نے اس رئیس کی وجہ سے عثمان کو دکھ دینا چھوڑ دیا۔اس سال حج کے موقعہ پر تمام عرب کے لوگ منیٰ میں جمع ہوئے۔لبید شاعر اپنے شعر سنا رہے تھے کہ انہوں نے ایک شعر پڑھا۔اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَاخَلَا اللہَ بَاطِلُ