تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 304

دی گئیں۔ان کو ملک سے نکالا گیا اور ان کو ہلاک کرنے کے لئے نہایت ظالمانہ اور گندے طریقوں کو اختیار کیا گیا۔بعض دفعہ مسلمان مردوں کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے باندھ دیتے۔اور پھر ان اونٹوں کو مخالف اطراف میں دوڑا دیتے اور اس طرح ان کو ہلاک کر کے اپنے دلوں کو خوش کرتے۔غرض کوئی نوعیت ظلم کی ایسی نہیں تھی جس سے مکہ والوں نے کام نہ لیا ہو۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تو اس مکہ میں ہر قسم کے تیروں کا ہدف بنے گا۔ہر ہاتھ خواہ وہ باپ کا ہو یا ماں کا ہو یا چچا کا ہو یا کسی اور عزیز رشتہ دار کا ہو۔تیرے مقابلہ میں اٹھنے والا ہے۔اور ہرقسم کا تیر ان کی طرف سے چلنے والا ہے۔پھریہ بھی کتنی عظیم الشان پیشگوئی ہے اور کتنی لطیف تفسیر ایک مختصر سے فقرہ میں لیالی عشـر کی فرما دی کہ ایک دن آنے والا ہے جبکہ تو اس مقام پر اترے گا جو اسی وقت ممکن ہو سکتا تھا کہ آپ پہلے مکہ چھوڑ کر جائیں۔پس اترے گا کا مختصر لفظ استعمال کر کے ہجرت کی طرف بھی اشارہ کر دیا اور بتایا کہ ظلموں کے بعد تجھے اس شہر سے ہجرت کرنی پڑے گی اس زمانہ کے لحاظ سے یہ بھی کتنی عجیب اور حیرت انگیز بات تھی۔مکہ کے لوگوں کی معاش کا ذریعہ صرف باہر سے آنے والے لوگوں کی آمد پر تھا۔اور وہ محض مجاوروں کا ایک شہر تھا۔ان کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف بلائیں۔ان کا یہ کام نہیں تھا کہ وہ مکہ سے لوگوں کو نکالیں۔اس زمانہ میں کون کہہ سکتا تھا کہ یہ مجاور ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال دیں گے۔یقیناً جہاں تک انسانی قیاسات کا سوال ہے کسی شخص کے وہم اور گمان میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ مکہ والے جو مجاوروں کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کی زندگی کا تعلق ہی اس بات سے ہے کہ باہر سے لوگ مکہ میں آتے رہیں۔وہ ایک دن اسلام کی مخالفت میں اس قدر اندھے ہو جائیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو اس امر پر مجبور کر دیں گے کہ وہ مکہ کو چھوڑ دیں اور کسی اور شہر میں چلے جائیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت بتا دیا کہ گو آج یہ حالات تمہیں ناممکن دکھائی دیتے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ مکہ والے ایسا کہاں کر سکتے ہیں۔مگر یقیناً سمجھو کہ وہ دن آنے والا ہے جب تمہیں مکہ کو چھوڑنا پڑے گا۔مگر صرف اسی قدر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی ہم تمہیں یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ اس کے بعد ایک دن وہ بھی آئے گا جب پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس شہر میں آئیں گے اور اس مکہ کو جس میں سے وہ صرف اپنے ایک ساتھی کے ساتھ نکلے تھے دس ہزار صحابہ سمیت فتح کر لیں گے چنانچہ فرمایا وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اس شہر میں اترنے والا ہے۔یہ لازمی بات ہے کہ آپ