تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 298

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر آج تک جو انگلی بھی اٹھ رہی تھی وہ تیری طرف ہی اٹھ رہی تھی۔واقعات کا ہر اشارہ تیری طرف تھا اور ہر نشان تیری طرف ہی بنی نوع انسان کی راہنمائی کر رہا تھا مگر تو جو اس شہر کا مقصود ہے جب ظاہر ہو گیا تو مکہ والے تیرے مخالف ہو گئے حالانکہ تو ہی وہ شخص تھا جس کے لئے واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہم نے پیدا کیا۔اب اس آیت کے تفصیلی طور پر یوں معنے ہوں گے کہ ہم مکہ کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں کئی قسم کے دردناک مظالم مسلمانوں پر ہونے والے ہیں یعنی ہم نے جو ـظلم اور منظّم سازشوں کے ذکر کئے ہیں خو د یہ مکہ ہی اس بات کا ثبوت دے دے گا اور باوجود اس کے کہ مکہ والوں کا یہ عقید ہ ہے کہ حرم میں شکار تک کو مارنا جائز نہیں۔حرم میں کسی انسان کو قتل کرنا جائز نہیں۔حرم میں دنگا فساد جائزنہیں۔پھر بھی وہ تجھے اور تیرے مریدوں کو اس مکہ میں ہر قسم کی ایذائیں دیں گے اور انہیں حرم اور اس کی تقدیس کا کچھ بھی خیال نہیں رہے گا۔یہ واقعہ میں ایک حیرت انگیز چیز تھی جو صحابہؓ کو دیکھنی پڑی صحابہؓ کے لئے کفار کی مارپیٹ اتنی حیرت انگیز نہیں تھی جتنی حیرت انگیز ان کے لئے یہ بات تھی کہ ہمیں مکہ میں مارا جاتا ہے۔یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ جب اسے غیر متوقع طور پر کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اسے غیر معمولی طور پر محسوس کرتا ہے اور اس تکلیف سے بہت زیادہ اذیت پاتا ہے۔قصہ مشہو ر ہے کہ منصور کے متعلق بادشاہ نے حکم دے دیا کہ انہیں پتھراؤ کیا جائے۔لوگ انہیں پتھر مارنے لگ گئے۔مگر منصور بالکل خاموش رہے اور انہوں نے اس سخت تکلیف کے باوجود اف تک نہ کی۔اسی دوران میں شبلی وہاں سے گذرے جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ منصور کو پتھر ما رہے ہیں تو انہوں نے گلاب کا ایک پھول اٹھایا اور منصور کو مارا۔جب گلاب کا پھول ان کے جسم سے لگا تو وہ چلّا اٹھے لوگوں نے ان سے کہا کہ عجیب بات ہے ہمارے پتھروں سے تو آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوئی اور آپ خاموش رہے لیکن شبلی نے گلاب کا ایک پھول مارا تو آپ چلّا اٹھے۔یہ کیا بات ہے انہوں نے کہا تمہارے پتھر مجھے پھول معلوم ہوتے تھے لیکن شبلی کا پھول مجھے پتھر معلوم ہوا۔یعنی اس سے مجھے امید نہیں تھی کہ وہ مجھے مارے گا اور گو اس نے مجھے پھول ہی مارا مگر چونکہ غیر متوقع طور پر اس کی طرف سے ایسا فعل سر زد ہوا اس لئے اس کا پھول مجھے پتھر کی طرح آ کر چبھا اور اس نے مجھے سخت تکلیف پہنچائی۔اسی طرح مکہ وہ مقام تھا جہاں کے رہنے والوں کا عقیدہ یہ تھا کہ یہاں کسی پر ظلم کرنا سخت گناہ ہے، کسی کو مارنا سخت گناہ ہے، کسی کو پیٹنا سخت گناہ ہے، کسی سے لڑائی کرنا جائز نہیں۔مکہ ایک مقدس مقام ہے اس کی تقدیس اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہاں اس قسم کی وحشیانہ حرکات کا قطعاً ارتکاب