تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 299
نہ کیا جائے۔چنانچہ سالہا سال سے اس عقیدہ پر ان کا عمل تھا۔مکہ کی عظمت اور اس کی حرمت کو پوری طرح ملحوظ رکھا جاتا تھا۔لڑائی اور قتل و خونریزی کو حدود حرم میں قطعاً جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔یہاں تک کہ وہ قبائل جو حرم کی حدود سے باہر آپس میں دست و گریبان رہا کرتے تھے، جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے تھے، جو تلواروں سے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہوتے تھے وہ بھی جب حرم کی حدود میں آتے تو ان کی لڑائیاں ختم ہوجاتیں۔وہ ایک دوسرے کے دشمن ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے والے شانہ بشانہ اور کندھا بہ کندھا لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے مکہ کا طواف کرتے۔اور اس کے گلی کوچوں میں گھومتے ہوئے نظر آتے۔کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ حرم میں کسی کو غضب آلود نگاہوں سے دیکھ سکے۔مگر اسی مکہ میں اسی حرم کی حدود میں یہی عقیدہ رکھنے والے ایک دن اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اس قدر جوش اور غیظ و غضب سے بھر گئے کہ انہوں نے اپنی تلواریں سونت لیں اپنے عقائد کو بالائے طاق رکھ دیا اور انہوں نے متحدہ طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ مسلمانوں کو قتل کر دو، ان پر عرصہ حیات تنگ کر دو، ان کو دکھ دے دے کر اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش کرو۔اور اس بات کو نظر انداز کر دو کہ یہ حرم ہے یا حرم سے باہر کا علاقہ ہے۔مکہ والوں کا حدود حرم میں مسلمانوں کے متعلق یہ فیصلہ ان کے لئے ایسا ہی حیرت انگیز تھا۔جیسے منصورکے لئے شبلی کا پھول حیرت انگیز تھا۔وہ ان پتھروں کی امید تو کرتے ہی تھے مگر ان کے واہمہ اور گمان میں بھی یہ نہیں آ سکتا تھا کہ شبلی ایک پھول بھی ان پر پھینکنے کی جرأت کرے گا۔اس لئے جب شبلی نے پھول مارا تو گو وہ گلاب کا ایک پھول تھا ان کو پتھروں کی بوچھاڑ سے زیادہ سخت معلوم ہوا اور اس کی اذیت نے ان کو پریشان کر دیا۔اسی طرح اگر طائف وغیرہ میں مسلمانوں کو مارا جاتا یا ان کو مختلف قسم کے دکھوں میں مبتلا کیا جاتا تو مسلمانوں کے لئے یہ بات ہرگز قابل تعجب نہ ہوتی۔وہ سمجھتے کہ یہ باتیں تو انبیاء کی جماعتوں کو پیش آیا ہی کرتی ہیں مگر وہ سمجھتے تھے کہ کفار کے عقیدہ کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایسی بات نہیں ہو سکتی۔اس لئے انہیں سخت حیرت ہوئی کہ مکہ ہی میں کفار نے مسلمانوں کو مظالم کا تختۂ مشق بنانا شروع کردیا۔حالانکہ مکہ والے ابراہیمؑ کے زمانہ سے مکہ کی تقدیس اور اس کی حرمت کے قائل چلے آتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کا درمیانی عرصہ چھ سو سال کا ہے۔اور حضرت عیسٰی اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا درمیانی زمانہ ۱۳ سوسال کا ہے۔یہ ۱۹ سو سال ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی چھ سو سال پہلے ہوئے ہیں۔انیس سو سال یہ اور چھ سو سال وہ ۲۵سو سال ہوگئے۔گویا اڑھائی ہزار سال سے یہ اعتقاد ان کے اندر قائم چلا آ رہا تھا کہ یہاں کسی کو مارنا پیٹنا سخت گناہ ہے، کسی کی