تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 297
کہ ہم ان مصائب و مشکلات کے نتیجہ میں تجھ کو مکہ سے لے جائیں گے۔مگر پھر تجھے کامیاب و کامران حالت میں اس شہر میں واپس لائیں گے۔اَنْتَ حِلٌّ کے چوتھے معنی چوتھے معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ تیرے لئے اس مقام میں حلت کی صورت پیدا کی جانے والی ہے یعنی مکہ کا احترام ایسا تھا جیسا کہ کوئی شخص کسی کام کے نہ کرنے پر قسم کھا لیتا ہے۔لیکن جس طرح ایک جائز بات اگر حرام ہو جائے تو قسم کا کفارہ دے کر اس کام کو کر لینا جائز ہے۔اسی طرح چونکہ مکہ والوں نے اپنی شرارتوں سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا ہے۔اس لئے ہم تجھے قسم کا کفارہ دینے والے کی طرح اس ممنوع بات کی اجازت دینے والے ہیں اور اس حرام امر کو تیرے لئے حلال کرنے والے ہیں پس تو اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مکہ پر حملہ کرے گا گویا یہ بتایا ہے کہ تجھے اور تیرے ساتھیوں کو مکہ میں حلال سمجھنے کے نتیجہ میں اب ان پر بھی حملہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔اگر یہ ظلم نہ کرتے تو ہم شائد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلحاً اس شہر میں لاتے۔مگر چونکہ انہوں نے بلد اللہ الحرام کو حلال بنا لیا۔اس لئے کچھ وقت کے لئے ہم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس شہر کو حلال کر دیں گے اور پھر جو ان کو ذلت ورسوائی ہو گی اس کے ذمہ وار یہ لوگ خود ہوں گے۔گویا صرف یہی نشان نہیں ہو گا کہ تو اس شہر میں کامیاب وکامران واپس آئے گا بلکہ تیرے لئے کچھ وقت تک مکہ کو حلال کر دیا جائے گا اور اہل مکہ کو ان کے مظالم کی وجہ سے شدید رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اَنْتَ حِلٌّ کے پانچویں معنی پانچویں معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ تو اس میں مقصود ہے ہر ارادہ کا کیونکہ مجازاً ہدف کا لفظ مقصود کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔اور استعارۃً اس کے ایک معنی امیدوں کے مرجع ہونے کے بھی ہیں۔جیسے رَمْیٌ کے معنی تیر پھینکنے کے ہیں اسی طرح رَمْیٌ کا لفظ استعارہ کے طور پر ان اشاروں کے لئے بھی بولتے ہیں جو کسی مامور کے ظہور سے پہلے کئے جاتے ہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اس شہر کی تقدیس کے لئے جو حالات ظاہر ہوتے رہے ہیں۔جیسے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا مکہ میں آنا، عربوں کا غیر معمولی رجوع، مکہ کا شہر بن جانا، اس کو فتنوں سے پاک رکھنا، اسے دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھنا، اسے غیر مذاہب کے اثر سے بچانا۔یہ سب باتیں اس شہر کو اس لئے حاصل تھیں کہ تو اس شہر میں ظاہر ہونے والا تھا مگر مکہ والوں کی عجیب حالت ہے وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ مکہ کو عظمت حاصل ہے مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جس غرض کے لئے مکہ کو عزت دی گئی ہے وہ کیا ہے اور اسی کی وہ مخالفت کر رہے ہیں۔بے شک مکہ بڑی عظمت کی چیز ہے۔مگر اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ہم مکہ کو ہی اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ تو ہی اس شہر کا مقصود ہے اور