تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 296
سے پہلے بھی علماء کو کفر بازی کا شوق تھا اور برابر ان کے اندر یہ مشغلہ پایا جاتا تھا کہ کبھی سنیوں نے وہابیوں پر کفر کا فتویٰ لگا دیا اور کبھی وہابیوں نے سنیوں کو کافر قرار دے دیا۔کبھی اہل حدیث دیوبندیوں کے خلاف اٹھے اور ان پر کفر کا فتویٰ عائد دیا اور کبھی دیوبندیوں نے دوسرے مسلمان فرقوں کو کافر اور مرتد کہہ کر اپنے دل کو خوش کر لیا۔مگر جب سے اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو قائم کیا ہے مسلمانوں کی طرف سے جو بھی تیر آتا ہے احمدیوں کی طرف آتا ہے۔نہ سنی شیعوں پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔نہ شیعہ سنیوں کو ملحد اور زندیق کہتے ہیں۔بلکہ سب کے سب خواہ وہ سنی ہوں، شیعہ ہوں، اہل حدیث ہوں احمدیت کے خلاف متفقہ طور پر کھڑے ہیں اور انہوں نے ہر تیر کا نشانہ ہماری جماعت کو بنایا ہوا ہے۔درحقیقت جس شخص کے متعلق قوم میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ یہ طاقت پکڑتا جا رہا ہے اور ایک دن یہ ہمارے زور کو کچل دے گا۔اس کے خلاف ساری قومیں اپنے اختلاف کو بھول کر متحد ہو جاتی ہیں اور متحدہ عزائم سے اس کو مٹانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتی ہیں۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمائی ہے کہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ہر قسم کے مظالم جو پہلے مکہ والوں نے کبھی نہ کئے ہوں گے اور جو مکہ نے کبھی دیکھے بھی نہ ہوں گے وہ اب تم پر اور تمہاری جماعت پر نازل ہوں گے۔بے شک مکہ والوں میں اختلاف بھی ہے پارٹیاں بھی ہیں جتھے بھی ہیں مگر تیری مخالفت کی وجہ سے ان کی تمام جتھ بندیاں ختم ہو جائیں گی۔وہ سب کے سب اکٹھے ہو جائیں گے آپس کے اختلافات کو بھول کر متحد ہوجائیں گے اور اس ایک مقصد پر سب متفق ہو جائیں گے کہ تجھ پر اور تیرے ساتھیوں پر مظالم کے تیر برسائے جائیں۔ا ور ہر قسم کی تکالیف جو وہ پہنچا سکتے ہوں پہنچائیں۔یہ بھی کتنی زبردست پیشگوئی ہے کہ نہ صرف مظالم کی طرف بلکہ ان مظالم کے انواع کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے۔اَنْتَ حِلٌّ کی تفسیر حِلٌّ کے تیسرے معنے کے لحاظ سے تیسرے معنی اس آیت کے یہ ہوں گے کہ تو اس مقام پر عارضی طور پر اترنے والا ہے یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہم نے لیالی عشر کی پیشگوئی میں مکہ والوں کے جن مظالم کی خبر دی ہے۔ان کے نتیجہ میں تجھ کو یہاں سے ہجرت کرنی پڑے گی اور پھر اس کے بعد فاتح کی صورت میں تو اس جگہ واپس آ ئے گا مگر یہاں رہے گا نہیں بلکہ عارضی قیام کے بعد واپس چلا جائے گا۔گویا لیالی عشـر اور وَالفجر دونوں کی یہاں تشریح کر دی اور پھر گیارھویں رات کے بعد کی فجر کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے۔یہ قرآن کریم کا کیسا کمال ہے کہ اس نے ایک مختصر سے فقرہ میں دو زبردست پیشگوئیاں بیان کر دیں۔الف۔ہجرت کی۔باء۔فتح مکہ کی۔اور جس طرح اَنْتَ حِلٌّ کے الفاظ میں لیالی عشـر کی تشریح کر دی تھی۔اسی طرح اَنْتَ حِلٌّ کے الفاظ نے ہی گیارھویں رات کے بعد کی فجر کو بھی واضح کر دیا اور بتا دیا