تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 295
بیان کردہ مضمون کی تائید میں ایسی حالت میں شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ اس شہر میں تجھ کو حلال سمجھا گیا ہے یا سمجھا جانے والا ہے۔یعنی مکہ مکرمہ کو حرم سمجھا جاتا ہے۔اور جو کام باہر جائز ہیں وہ یہاں جائز نہیں اور جو باہر ناجائز ہیں وہ یہاں اور بھی شدت سے ناجائز ہیں۔لیکن اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہم نے جو کہا تھا کہ لیالی عشـر آنے والی ہیں۔اس کے متعلق ہم مزید تجھے یہ خبر دیتے ہیں کہ یہ دس تاریک راتیں مکہ مکرمہ میں ہی آنے والی ہیں۔پہلے صحابہؓ سمجھتے ہوں گے کہ خواہ مشرکینِ مکہ اسلام کے کس قدر خلاف ہوں اور توحید سے کتنی ہی منافرت کیوںنہ رکھتے ہوں۔بہرحال وہ مکہ میں ہمیں کوئی دکھ نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ان کا اپنا مذہب یہی ہے کہ باہر تو منع ہے ہی مگر حرم میں قتل و خونریزی اور دنگا وفساد اور بھی سختی سے منع ہے۔مگر اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ باوجود اس کے کہ مکہ والوں کا مذہب یہی ہے کہ مکہ میں لڑائی جائز نہیں۔مکہ والوں کا مذہب یہی ہے کہ مکہ میں فساد جائز نہیں مکہ والوں کا مذہب یہی ہے کہ مکہ میں فتنہ برپا کرنا اور لوگوں کو تکالیف میں مبتلا کرنا جائز نہیں۔پھر بھی اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ مکہ کی حرمت تیری اور تیرے ساتھیوں کی حفاظت نہیں کرسکے گی۔وہ حرمت تمہیں ان کے حملوں سے بچا نہیں سکے گی۔بلکہ تم اس جگہ حلال سمجھے جاؤ گے۔بے شک یہاں ہر شے کا مارنا ناجائز سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ شکار تک کا مارنا جائز نہیں مگر اسی مکہ میں اسی شہر کے رہنے والے اور مکہ کی حرمت اور اس کی تقدیس کا عقیدہ رکھنے والے تجھے اور تیرے مریدوں کو اب ہر قسم کی ایذا دیں گے۔اور حرم اور اس کی حرمت کا کچھ بھی پاس نہیں کریں گے۔اَنْتَ حِلٌّۢ کی تفسیر حِلٌّ کے دوسرے معنے کے اعتبار سے دوسرے معنوں کے لحاظ سے وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے یہ معنی ہوں گے کہ تو اس میں ہر تیر کا نشانہ بننے والا ہے یعنی یہی نہیں کہ تمہاری عزت یا تمہارا مال ان کے ہاتھ میں محفوظ نہیں ہو گا بلکہ ہر قسم کے مظالم تم پر توڑے جائیں گے۔ایک ہوتا ہے ظُلم اور ایک ہوتا ہے ہر قسم کا ظلم۔ظلم اپنی ذات میں ہی بُری چیز ہے۔لیکن ہر قسم کا ظلم جو شخص اختیار کر لے اور تمام قسم کی برائیوں کے ارتکاب پر کمر بستہ ہو جائے اس سے زیادہ برا اور کون شخص ہو سکتا ہے۔اس جگہ نہ صرف مشرکین مکہ کے مظالم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ہر قسم کے مظالم کا ہدف مسلمانوں کو بنائیں گے اور جو بھی تیر ان کے ہاتھوں سے چھوٹے گا اس کا اولین نشانہ مسلمانوں کے سینے ہوں گے۔حِلٌّ کے معنی جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے اس ہدف کے ہوتے ہیں جو تیروں کے نشانہ کے لئے بنایا جاتا ہے۔پس معنی یہ ہوئے کہ اب تم ہر قسم کے تیروں کا ہدف بن جاؤ گے جو بھی تیر آئے گا تمہاری طرف آئے گا۔جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ