تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 287
اسلام پھیلے۔اور وہاں مسلمانوں پر مظالم شروع ہو جائیں۔اس خیال کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مکہ سے باہر بھی اکّے دکّے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا تھا۔اور ذہن اس طرف جا سکتا تھا کہ ممکن ہے عرب کا کوئی اور حصہ ہو جس میں ان مظالم کا آغاز ہونے والا ہو۔یا کوئی اور لوگ ہوں جن کو مصائب و آلام کا تختۂ مشق بنایا جانے والا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ایسے شبہات کی تردید کی ہے۔اور بتایا ہے کہ تمہارا یہ خیال صحیح نہیں۔یہی مکہ جس میں تم رہتے ہو جس میں تمہارے عزیز اور رشتہ دار موجود ہیں۔اور جس میں کفار کی طرف سے مظالم شروع ہونے کا تمہارے دلوںمیں خیال تک بھی پیدا نہیں ہوتا۔اسی مکہ میں ان کی طرف سے یہ افعال ہوں گے اور اسی شہر میں تم پر مظالم کے تیر برسائے جائیں گے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ۰۰۲ نہیں (نہیں ایسا نہیں جیسا تم سمجھتے ہو) میں تو قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔تفسیر۔لَاۤ اُقْسِمُ۔لا کے متعلق نحوی لکھتے ہیں کہ فِیْہِ وَجْھَانِ اَحْدُھُمَا ھِیَ زَائِدَۃٌ کَمَا زِیْدَتْ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی لِئَلَّا يَعْلَمَ یعنی اس آیت میں جو لا آتا ہے اس کے متعلق دو باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ایک تو یہ کہ یہ زائدہ ہے جیسے قرآن کریم میں ہی آتا ہے لِئَلَّا يَعْلَمَ تا کہ وہ نہ جانے اور مراد یہ ہے کہ وہ جان لے۔(املاء مامن بہ الرحـمٰن الـجزء الثانی سورۃ القیامۃ ) اس جگہ یاد رکھنا چاہیے کہ زائدہ سے اردو والا زائد مراد نہیں۔اردو میں زائد کے اور معنے ہوتے ہیں۔اور عربی میں نحویوں کے نزدیک زائد بالکل اور معنی رکھتا ہے۔ان کے نزدیک زائد کے معنی صرف اتنے ہوتے ہیں کہ یہ لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔بلکہ صرف مضمون کی تاکید کے معنی دیتا ہے۔(املاء مامن بہ الرحمٰن الـجزء الثانی سورۃ القیامۃ ) پس نحوی جب کسی لفظ کے متعلق یہ کہیں کہ وہ زائد ہے تو اس سے ان کی مراد صرف اتنی ہوتی ہے کہ لغت کے لحاظ سے جن معنوں میں عام طور پر یہ لفظ استعمال ہوا کرتا ہے ان معنوں میں یہ استعمال نہیں ہوا بلکہ تاکید کے معنے دیتا ہے۔عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ کئی قسم کے فلسفیانہ نکتے اپنے اندر رکھتی ہے۔چنانچہ