تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 286
سُوْرَۃُ الْبَلَدِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ البلد۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ عِشْـرُوْنَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے علاوہ بیس آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ البلد مکی ہے سورۃ البلد کے متعلق حضرت ابن عباسؓ اور ابن زبیرؓ کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے۔لطف یہ ہے کہ مسیحی مصنّفین میں سے پادری ویری تک کہتے ہیں۔تغلیط کے خطرہ بغیر اس اطمینان اور یقین کے ساتھ کہ ہم کسی غلطی کا ارتکاب نہیں کر رہے۔نہ تاریخی واقعات کے خلاف ہم کسی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پہلے سال کی ہے۔گویا وہ اس کے ابتدائی ہونے پر اتنے مصرّہیں کہ اسے نہ صرف ابتدائی مکی سورتوں میں شمار کرتے ہیں۔بلکہ پہلے سال کی نازل شدہ بتاتے ہیں۔اگر ایسا ہو تو اس کا مضمون اور بھی معجزانہ ہے۔مگر میرے نزدیک اس سورۃ کا ان مضامین سے تعلق ہے جن مضامین کی پہلے تین سورتیں گذر چکی ہیں اور جو تیسرے یا چوتھے سال بعد نبوت کی ہیں۔اس بنا پر یہ سورۃ بھی میرے نزدیک تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے پہلے چند ماہ کی ہے اور پہلی سورتوں کے زمانہ کی ہی ہے۔سورۃ البلد کا تعلق پہلی سورتوں سے اس سورۃ کا تعلق پہلی سورتوں سے یہ ہے کہ پہلی سورتوں میں ظلم کے ابتدا کی خبر دی گئی تھی۔اور یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی طرف سے منظّم کوششیں شروع ہونے والی ہیں۔پھر یہ بتایا تھا کہ وہ کوششیں بڑی تکلیف دہ ہوں گی۔اور ایک لمبے عرصہ تک (جو دس سال تک ممتد ہو گا) یہ کوششیں جاری رہیں گی۔پھر اس کے ازالہ کی صورت پیدا ہو گی۔اس کے بعد پھر کچھ تکلیف ہو گی مگر صرف کچھ عرصہ تک رہے گی۔اس کے بعد فجر کا طلوع شروع ہو جائے گا۔اب اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ ظلم کے مقام کو واضح کرتا ہے۔اسی طرح ظلم کی بعض اور تفصیلات کو بیان کرتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ یہ ظلم مکہ میں ہی شروع ہو گا۔ہو سکتا تھا کہ چونکہ اس وقت تک مسلمانوں پر ظلم نہیں ہوا تھا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور صحابہؓ کے رشتہ دار مکہ میں موجود تھے۔یہ خیال کر لیا جاتا کہ لیالی عشر کی پیشگوئی کا جو ظہور ہونے والا ہے ممکن ہے اس رنگ میں ہو کہ بعض اور علاقوں میں