تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 274
چیز ہے۔قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ اے لوگو! تم یتیم کا اکرام نہیں کرتے تھے یہ نہیں کہاکہ لَا تُطْعِمُوْنَ الْیَتِیْمَ اے لوگو! تم یتیم کو کھا نا نہیں کھلاتے تھے اگر محض کھانے کا ذکر ہوتا تو یہاں اکرام کا لفظ نہ ہوتا بلکہ اِطْعَام کا لفظ ہوتا۔اکرام کا لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھا جانا صاف بتا رہا ہے کہ الٰہی منشا یہ ہے کہ یتیموں کی ایسے رنگ میں پرورش کی جائے کہ ان کا احترام مدنظر ہو یہ نہ ہو کہ صدقہ کے طور پران کو روٹی دی جا رہی ہو۔میں نے قادیان میں ایک دفعہ یتیم خانہ بنایا تو تھوڑے دنوں کے بعد ہی مجھے پتہ لگا کہ ان یتیموں سے سارا سارا دن کام لیا جاتا ہے۔کام لینا منع نہیں لیکن ہمیں ان سے اتنا ہی کام لینا چاہیے جتنا ہم اپنے بیٹے سے کام لیتے ہیں یہ نہ ہو کہ ہمارا بیٹا تو آرام سے بیٹھا رہے اور کام کا بوجھ یتیم پر ڈال دیا جائے محض اس لئے کہ اس کا باپ زندہ نہیں اس کی ماں زندہ نہیں اور وہ اب دوسرے لوگوں کے رحم پر ہے۔اسے بیٹوں کی طرح رکھا جائے، بیٹوں کی طرح اس سے کام لیا جائے اور پھر اگر اس میں اور اپنے بیٹوں میں کبھی لڑائی ہو جائے تو بے شک یہ اس کو مارپیٹ لیں اور وہ ان کو مارپیٹ لے اس وقت ماں اسے یہ نہ کہے کہ خبردار میرے بیٹے پر ہاتھ اٹھا یا تو تجھے مار مار کر سیدھا کر دوں گی۔اگر اس طرح کسی یتیم کو رکھا جائے تو بے شک کسی غلطی پر اسے مار بھی لیا جائے اس میں کوئی حرج نہیں آخر ہم اپنے بچے کو بھی بعض دفعہ مار لیتے ہیں۔پھر اگر کسی یتیم کو اس کی کسی غلطی پر بالکل اسی طرح جس طرح ہم اپنے بچوں کی اصلاح کے لئے انہیں مارتے ہیں اگر کبھی مار لیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں مگر بہرحال اس کی عزت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے۔قرآن کریم صرف یتامیٰ کو کھانا کھلانا ضروری نہیں سمجھتا بلکہ فرماتا ہے قومی ترقی کے لئے یہ نہایت ضروری امر ہے کہ یتیم کو عزت سے رکھا جائے اگر یتامیٰ کا اکرام قوم میں نہیں پایا جاتا تو خواہ تم ہزاربار لوگوں سے کہو کہ جاؤ اور خدا کی راہ میں مر جاؤ۔جاؤ اور اپنی جانیں قربان کر دو۔وہ کہیں گے ہم چلے تو جائیں مگر ایسا نہ ہو کہ ہم مر جائیں اور ہمارے بچوں کو تکلیف اٹھانی پڑے لیکن اگر وہ یہ دیکھیں کہ ہماری زندگی اور ہماری موت بچوں کی پرورش کے لحاظ سے برابر ہے ہمارے مرنے کے بعد بھی یہ اسی طرح رہیں گے بلکہ موجودہ حالت سے بھی ہزار گنا بڑھ کر ان کی پرورش کے سامان ہوں گے تو بے شک تم قوم کے ایک ایک فرد کو کٹواتے جاؤ، ایک ایک فرد کو مرواتے جاؤ کوئی ایک شخص بھی اپنے قدم کو پیچھے نہیں ہٹائے گا اور خوشی سے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دےگا۔غرض یہ ایک نہایت ہی عظیم الشان مسئلہ ہے اور جب تک کسی قوم کے افراد اس کو پوری طرح نہ سمجھ لیں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔