تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 275
دوسری بات خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ تم آپس میں ایک دوسرے کو رغبت نہیں دلاتے کہ غریب آدمی کو کھانا کھلایا جائے۔اگر غرباء کی خبر گیری نہ ہو تو قومی جنگوں میں کبھی کا میابی نہیں ہوتی اور سپاہی بہت کم ملتے ہیں کیونکہ دنیا میں غرباء زیادہ ہوتے ہیں اگر سپاہیوں اور لڑنے والوں کے ذہن میں یہ ہو کہ ہماری قوم ہماری محسن ہے۔ہم بیمار ہوئے تو اس نے ہمارا علاج کیا۔ہمارے پاس کپڑے نہ تھے تو اس نے ہمارے لئے کپڑے مہیا کئے۔ہم بھوکے تھے تو اس نے ہمارے لئے غلہ مہیا کیا۔ہم حاجت مند تھے تو اس نے ہماری حاجات کو پورا کیا۔تو گو کمینے اور رذیل لوگ بھی ہرقوم میں پائے جاتے ہیں مگر بہرحال جو شریف ہوں گے اور یہی طبقہ زیادہ ہوتا ہے وہ کہیں گے جب قوم نے ہمارے ساتھ یہ احسان کیا ہے وہ احسان کیا ہے تو آج ہم قومی ضرورت کے وقت کیوں پیچھے ہٹیں ہم آگے بڑھیں گے اور قوم کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیں گے۔لیکن اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ ہم بھوکے مرتے رہے مگر ہمیں کسی نے نہ پوچھا، ہم ننگے پھرتے رہے مگر کسی نے ہمارا ننگ نہ ڈھانکا، ہم بیمار ہوئے مگر کسی نے ہمارا علاج نہ کیا، ہم محتاج ہوئے مگر کسی نے ہماری احتیاج کو رفع نہ کیا۔تو وہ کہیں گے ہمارے لئے قوم نے کیا کیا تھا کہ آج ہم اس کے لئے قربانی کریں۔وہ ہم سے بے اعتنائی کرتی رہی ہے آج ہم اس سے بے اعتنائی کریں گے۔پس غرباء کی خبر نہ کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قربانی کا مادہ لوگوں کے دلوںمیں سے کم ہو جاتا ہے اور قومی جنگوں میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔میں نے قادیان میں دیکھا ہے ہم کوشش کرتے ہیں کہ غرباء کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ہم ان کے لئے کپڑے مہیا کرتے ہیں، ان کے لئے غلہ کا انتظام کرتے ہیں، ان کی روپیہ سے امداد کرتے ہیں، ان کو طبّی امداد بہم پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور حتی الامکان ان کی تکالیف کو زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے بعد بھی گو کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو باوجود اس سارے انتظام کے جماعت پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں لوگوں کا کام صرف یہی ہے کہ ان پر روپیہ خرچ کرتے چلے جائیں ان پر کوئی ذمہ واری نہیں۔لیکن پھر بھی اکثریت ایسی ہے جو محسوس کرتی ہے کہ یہ جماعت ہمارے لئے قربانی کر رہی ہے اس لئے قومی ضرورتوں کے وقت ہمیں بھی دوسروں سے زیادہ قربانی کرنی چاہیے۔چنانچہ وہ لوگ خود بھوکے ہوتے ہیں مگر جب کسی چندہ کی تحریک ہو مزدوری کر کے بھی اس میں ضرور حصہ لیتے ہیں اور گو وہ اس تحریک کے مخاطب نہیں ہوتے اور ان پر کسی قسم کی ذمہ واری بھی نہیں ہوتی مگر چونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ قوم ہمارے لئے قربانی کرتی ہے اور وہ ہماری ضروریات کا خیال رکھتی ہے اس لئے وہ بھی قربانی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ قومی تحریکات میں حصہ دار بن جائیں۔پس غرباء کی خبر گیری کا سب سے بڑا فائدہ