تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 273
کے ساتھ کریں گے۔پس یاد رکھو یتیم کی خبر گیری کرنا صرف نیکی اور تقویٰ ہی نہیں بلکہ قوم کے کیرکٹر کو بلند کرنا اور اسے قربانیوں پر زیادہ سے زیادہ دلیر بنانا ہے۔جو قوم یتامٰی سے حسن سلوک نہیں کرتی وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔میں نے ایک دفعہ گھر میں نصیحت کی کہ یتامٰی سے ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسے اپنے بچوں سے کیا جاتا ہے۔اگر اس رنگ میں ان سے سلوک نہیں کیا جاتا تو قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تم نے کسی یتیم کی پرورش کی ہے میں نے کہا میں بعض یتامیٰ کا خرچ خود دیتا ہوں مگر پھر بھی میری بعض بیویاں ان سے اس طرح کام لیتی ہیں جس طرح نوکروں سے کام لیا جاتا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ ان سے بالکل کام نہ لیا جائے اگر ان سے کام نہیں لیا جائے گا تو وہ آوارہ ہو جائیں گے میںصرف یہ کہتا ہوں کہ ان سے ایسا ہی کام لیا جائے جو اپنے بچوں سے بھی لے لیا جاتا ہے اور اگر کوئی کام ایسا ہو جو ہم اپنے بچوں سے کروانے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہمیں وہ کام کسی یتیم سے بھی نہیں لینا چاہیے۔بہرحال میں نے گھر میں نصیحت کی کہ روپیہ تو میں دے دیتا ہوں مگر کام کی ذمہ واری تم پر ہے تمہیں چاہیے کہ ایسے رنگ میں ان سے کام مت لو گویا وہ تمہارے نوکر ہیں۔میری اس نصیحت کے بعد اُمّ طاہر مرحومہؓ نے ایک یتیم بچہ پالا بعد میں تو اس کی حالت ایسی اچھی ثابت نہیں ہوئی مگر بہرحال انہوں نے اس بچے کو اسی طرح پالا جس طرح وہ اپنے بچوں کو پالتی تھیں اور انہوں نے کسی قسم کا فرق پیدا نہ ہونے دیا۔اس بارہ میں نہایت ہی اعلیٰ نمونہ عزیزم مرزا ظفر احمد نے دکھایا ہے جو میرے بھتیجے ہیں۔بنگال کے وہ فاقہ زدہ لوگ جو لاکھوں کی تعداد میں وہاں ہلاک ہوئے ہیں ان میں سے ایک کی یتیم بچی لے کر انہوں نے اس کی پرورش شروع کی ہے اور اس عمدگی اور خوبی کے ساتھ وہ اس کی پرورش کر رہے ہیں کہ اس میں اور ان کی اپنی لڑکی میں کوئی بھی فرق نظر نہیں آتا۔وہ اس کو مار پیٹ لیتی ہے اور یہ اس کو مار پیٹ لیتی ہے، دونوں کے بالکل ایک جیسے کپڑے ہوتے ہیں، ایک جیسا دونوں کو کھانا کھلاتے ہیں، ایک جیسی دونوں کو تعلیم دلاتے ہیں، اور ایک جیسی دونوں کی نگرانی رکھتے ہیں ان کی لڑکی اس لڑکی کو باجی کہتی اور اس کا احترام کرتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے یتیم کا پالنا کہتے ہیں۔یتیم کا پالنا یہ نہیں کہ کسی کو گھر میں نوکر کے طور پر رکھ لیا، سارا دن اس سے کام لیتے رہے، کھانے کو اسے روکھی سوکھی روٹی دے دی ، پہننے کے لئے پھٹا پرانا کپڑا دے دیا، ذرا غلطی ہوئی تو گالیاں دینے لگ گئے یا تھپڑوں سے اس کی مرمت شروع کر دی اور پھر یہ خیال کر لیا کہ ہم یتیم کی پرورش کر رہے ہیں اسے اسلامی اصطلاح میں قطعاً یتیم پروری نہیں کہا جاتا۔یتیم پروری یہ ہے کہ انسان اپنے بچوں کی طرح دوسرے کے یتیم بچہ کو رکھے اور اپنے سلوک میں ذرا بھی فرق نہ آنے دے۔محض کسی کو روٹی کھلا دینا اور بات ہے اور یتیم پروری اور