تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 272

پھٹے پرانے کپڑے دیں گے، ان کے سروں پر محبت کا ہاتھ نہیں رکھیں گے، ان کو پیار کی نگاہوں سے نہیں دیکھیں گے، انہیں بات بات پر جھڑکیں گے، وہ روئیں گے تو انہیں چپ کرانے کی کوشش نہیں کریں گے۔انہیں ضرورتیں پیش آئیں گی تو وہ ان کو پورا نہیں کریں گے۔یہ خیالات جب کسی شخص کے دل اور دماغ پر حاوی ہوتے ہیں تو اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، اس کا بدن کپکپا جاتا ہے اور وہ جان دینے سے گھبرا تا ہے اور اس میدان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح مالی قربانی کا وقت آئے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور اسے اپنے بچوں کی پرورش کا خیال روپیہ کو بلادریغ خرچ کرنے نہیں دیتا۔اپنی زندگی تک تو اسے پروا نہیں ہوتی، سمجھتا ہے جس طرح بھی ہو گا میں اپنے بچوں کی پرورش کر لوں گا۔لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں یہ خیال بھی آ جاتا ہے کہ اگر مال لٹانے کے بعد میں مر گیا اور میرے بچوں کے لئے کوئی چیز باقی نہ رہی تو ان کا بعد میں کیا حال ہو گا۔اس وقت اگر وہ سمجھتا ہے کہ قوم نے میرے بچوں کی پرورش نہیں کرنی تو وہ بزدل بن جاتا ہے اور قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ ڈر انسان کو اپنی موت کا نہیں ہوتا بلکہ سب سے زیادہ ڈر اسے اس بات کا ہوتا ہے کہ میری موت کے بعد میرے بچوں کا کیا حال ہو گا۔یہ ایک جذباتی سوال ہے جو اس کے اندر ایک کشمکش اور ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔اس کے ارادوں میں تعطّل اور اس کی خواہشات میں جمود کی کیفیت رونما ہو جاتی ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ قوم کے کئی بچے یتیم ہیں مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دروازوں پر جا جا کر اپنے لئے آٹا مانگتے پھرتے ہیں یہ دیکھ کر وہ سمجھتا ہے اگر میں مر گیا تو میرا بچہ بھی کل اسی طرح بھیک مانگنے پر مجبور ہو گا۔پھر وہ ایک اور نظارہ دیکھتا ہے تو اس کا قلب اور بھی سہم جاتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ چند یتیم آٹا مانگنے کے لئے کسی کے دروازہ پر آئے انہوں نے دستک دی اور کہا ہمیں آٹا دیا جائے۔گھر والا ان کی آواز کو سنتا ہے تو بڑ بڑا کر کہنے لگ جاتا ہے ان لوگوں نے تو ہمارے کان کھا لئے ہیں۔روز آٹا روز آٹا۔وہ یہ فقرہ سنتا ہے تو اس میں اور زیادہ بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔وہ کہتا ہے اگر میں مر گیا تو میرا بچہ اوّل تو بھیک مانگنے پر مجبور ہو گا اور پھر لوگوں کا سلوک اس سے یہ ہو گا کہ وہ تو آٹا مانگے گا اور لوگ اسے کہیں گے تو نے ہمارے کان کھا لئے۔پھر وہ دیکھتا ہے کہ فلاں شخص مر گیا ہے تو اس کے یتیم بچے آج فلاں گھر میں برتن مانجھ مانجھ کر گذارہ کر رہے ہیں۔وہ اپنی نظر کو وسیع کرتا اور اپنی قوت فکریہ پر زور ڈالتا ہے۔تو کہتا ہے جب میں مر جاؤں گا میرے بچوں سے بھی اسی قسم کا کام لیا جائے گا۔اس پر اس کی بزدلی کا پارہ اور زیادہ اوپر چڑھ جاتا ہے بلکہ اگر کوئی خود ہی یتیم پر ظلم کر رہا ہو تو بھی اس میں بزدلی آجاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے جو سلوک آج میں دوسروں کے یتیم بچوں سے کر رہا ہوں وہی سلوک میرے مرنے کے بعد لوگ میرے بچوں