تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 271
ہوتی ہیں جو انسان کوتباہی کی طرف لے جاتی ہیں اور تباہی کے وہ سب موجبات تم میں پائے جاتے ہیں۔اس لئے اگر تم پر تباہی نہ آئے تو اور کس پر آئے۔چنانچہ قومی تباہی کے چار بڑے بڑے اسباب بیان کئے گئے ہیں جن میں سے پہلا اور اہم سبب یتامیٰ کی خبر گیری نہ کرنا ہے۔بظاہر یہ ایک روحانی اور دینی کام معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قومی ترقی اور اس کے تنزّل کے ساتھ اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اگر یتامیٰ کی خبر گیری نہ کی جائے، ان کی پرورش کو نظر انداز کر دیا جائے اور ان کو دربدر دھکے کھانے پر مجبور کیا جائے تو دنیا میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔دنیا میں بڑے سے بڑے کام قربانی چاہتے ہیں اور جب تک بڑی بڑی قربانیاں نہ ہوں اس وقت تک بڑے بڑے کام بھی نہیں ہوتے۔اور بڑی بڑی قربانیاں دوہی قسم کی ہوتی ہیں یا مالی یا جانی۔مگرہم دیکھتے ہیں انسان اپنے لئے تو تکلیف برداشت کر لیتا ہے لیکن جب اسے خیال آتا ہے کہ میرے بال بچوں کا کیا بنے گا تو بہت سے لوگ بزدل بن جاتے ہیں اور قربانی کے میدان سے اپنے قدم کو پیچھے ہٹا لیتے ہیں۔اگر کسی قوم میں یتامیٰ کی خبرگیری پوری طرح پائی جاتی ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ جانی اور مالی قربانیوں کے وقت اس قوم کا کوئی ایک فرد بھی پیچھے رہے اور اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش نہ کرے بلکہ وہ ہنستا ہوا آگے بڑھے گا اور ہر قسم کے شدائد کو خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔اگر لوگ روزانہ اپنی آنکھوںسے یہ نظارہ دیکھیں کہ فلاں شخص مر گیا تو اس کے یتیم بچوں کو فلاں امیر لے گیا اور اس نے اپنے بچوں کی طرح اپنے گھر میں رکھ لیا، وہ ان میں اور اپنے بچوں میں کوئی فرق نہیں کرتا، وہ انہیں تعلیم دلا رہا ہے، انہیں اچھے سے اچھا کھانا کھلا رہا ہے، انہیں اچھے سے اچھا لباس پہنا رہا ہے تو جب بھی قربانی کا سوال پیدا ہو گا ہر شخص آگے بڑھے گا اور کہے گا اگر میری جان بھی جاتی ہے تو بےشک جائے مجھے اس کی پروا نہیں۔فلاں شخص مر گیا تھا تو اس کے بچے فلاں قومی بھائی لے گیا اور اس نے انہیں اپنے بچوں کی طرح پالنا شروع کر دیا۔فلاں شخص مر گیا تو اس کے بچوں کو فلاں شخص لے گیا اور ان کے اخراجات کا متکفّل ہو گیا اگر میں بھی مر گیا تو کیا ہوا میرے بچوں کی قوم نگران ہو گی اور وہ مجھ سے زیادہ بہتر رنگ میں ان کی تربیت کا فرض سرانجام دے گی۔یہ احساس اگر ہر فرد کے دل میں پیدا ہو جائے اور یتامیٰ کی خبر گیری قومی طور پر کسی جماعت میں پائی جائے تو وہ جماعت کبھی مٹ نہیں سکتی۔وہ جماعت کبھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کر سکتی۔قربانیوں سے ہچکچاہٹ محض اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مر گئے تو ہمارے بچے خا ک میں مل جائیں گے ان کا کوئی نگران نہیں ہو گا، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا، لوگ انہیں ڈانٹیں گے، ان سے نوکروں کی طرح کام لیں گے، ان کو بوٹ کی ٹھوکروںسے ماریں گے، انہیں کھانے کے لئے سوکھے ٹکڑے اور پہننے کے لئے